سمندر میں تیل کے اخراج سے آبی حیات کو خطرہ

fish.jpg

مبارک ولیج کے قریب پائی جانے والی آبی حیات کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے۔

جامعہ کراچی کے سینٹر آف ایکسی لینس ان میرین بائیولوجی کی تحقیق کے مطابق بحیرہ عرب میں کراچی کی ساحلی پٹی پر تیل کے اخراج سے مبارک ولیج کے قریب پائی جانے والی آبی حیات کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق جب سے پورٹ قاسم پر کوئلے کی ترسیل شروع ہوئی ہے اور بائیکو اور حبکو پلانٹ نے کام شروع کیا ہے ساحلی پٹی کے اطراف موجود آبی حیات کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

مبارک ولیج کے مچھیروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس سے پہلے جب وہ سمندر سے مچھلیاں پکڑتے تھے تو وہ زندہ ہوتی تھیں لیکن اب آلودگی پھیلنے کی وجہ سے ہر جگہ مردہ مچھلیوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔

سینٹر آف ایکسی لینس ان میرین بائیولوجی جامعہ کراچی کی ڈاکٹر شہناز راشد کاکہنا ہے کہ اگر ہم دیکھیں تو پاکستان کی ساحلی پٹی 1050 کلومیٹر طویل ہے جس کی گہرائی 300 میل کے قریب ہے جس کی مناسبت سے ہماری مچھلیوں کی برآمدات 1.2 ارب ڈالر سے 1.4 ارب ڈالر کے درمیان ہونی چاہیے لیکن فیکٹریوں کے فضلے اور بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی کے باعث بدقسمتی سے ہماری برآمدات اب صرف 350 ملین ڈالر کے قریب رہ گئی ہیں۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم صرف خراب سی فوڈ دوسرے ملکوں کو برآمد کررہے ہیں تیل کے اخراج کی سب سے پہلے خبر ان مچھیروں کو ہوئی تھی جو مقامی مچھیروں کے ساتھ مل کر عبدالرحمن گوٹھ میں سمندر سے مچھلیاں پکڑتے ہیں، ہمیں مچھیروں سے اس کے برخلاف ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں تیل کا یہ اخراج کسی پائپ لائن کے پھٹنے کے باعث یا گزرنے والے بحری جہاز سے ہوا ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top