حملے کی ویڈیو فیس بک پر براہِ راست نشر ہوئی

new-zealand.jpg

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران فائرنگ کے مرکزی ملزم آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ نے مسجد میں فائرنگ کی ویڈیو فیس بک پر براہ راست نشر کی جس کا دورانیہ 17 منٹ تھا ۔

حملے کے وقت اس نے اپنے ہیلمٹ پر کیمرا لگا رکھا تھا جس کے ذریعے حملے کی ویڈیو براہِ راست نشرہوئی۔ حملے کے کئی گھنٹے بعد تک یہ سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی رہی ۔

براہِ راست ویڈیو سب سے پہلے فیس بک پر لائیو نشر ہوئی تھی جس کے بعد اسے کئی دیگر صارفین نے ٹوئٹر، وٹس ایپ اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کیا۔

فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ویڈیو کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور جیسے ہی پولیس کی طرف سے انہیں اس کی اطلاع ملی تھی، انہوں نے فوراً حملہ آور کے اکاؤنٹ سے ویڈیو ہٹا دی تھی۔

ٹوئٹر اور گوگل کے مطابق وہ اس ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرنے کے عمل کو ہر ممکن طور پر روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ملزم نے حملے کی ویڈیو براہِ راست نشر کرنے کے لیے موبائل فون کی ایک ایپ لائیو 4استعمال کی تھی جس کے ذریعے صارفین اپنے جسم پر لگے کیمروں کی ویڈیوز براہِ راست فیس بک پر نشر کر سکتے ہیں۔

یہ ایپ زیادہ تر خطرناک کرتب دکھانے والے کھلاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن جمعے کو اس ایپ کا بہیمانہ استعمال کیا گیا۔

اس ایپ کے ذریعے نشر ہونے والی حملے کی ویڈیو بالکل کسی ویڈیو گیم کا سا تاثر دے رہی تھی جس میں ایک شخص نمازیوں کو اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنا رہا تھا۔

‘لائیو 4’کے بانی اور چیف ٹیکنالوجی افسر ایلکس زوخوف کا کہنا ہے کہ ان کی ایپ کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیو براہِ راست فیس بک پر شیئر ہوجاتی ہے اور ان کی کمپنی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس ویڈیو کو پہلے چیک کرسکیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایلکس زوخوف کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی ایپ کے ذریعے نشر ہونے والی ویڈیوز کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی اور نہ ہی ان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ویڈیوز کے نشر ہوتے وقت یا اس کے بعد ان کا جائزہ لے سکیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top