پی ایس ایل کا نیا چیمپئن کون ہوگا؟

PSL-Final.jpg

پی ایس ایل سیزن فور کا فیصلہ کن معرکہ اتوار کو پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلا جارہا ہے۔

حالیہ ایونٹ میں دونوں ٹیمیں اب تک تین مرتبہ آمنے سامنے آچکی ہیں اور ہر بار جیت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مقدر بنی ہے۔

کوئٹہ اور پشاور کی ٹیمیں پہلی مرتبہ 15 فروری کو دبئی میں مدِ مقابل ہوئی تھیں جہاں کوئٹہ نے 6 وکٹوں سے کامیابی سمیٹی تھی۔ دوسرا میچ 4 مارچ کو ابوظہبی میں کھیلا گیا تھا۔ اس میچ میں کوئٹہ نے پشاور کو آٹھ وکٹوں سے زیر کیا تھا۔

تیسری بار دونوں ٹیمیں پہلے کوالیفائر میں 13 مارچ کو آمنے سامنے آئی تھیں۔ اس میچ میں بھی کامیابی نے کوئٹہ کے قدم چومے اور پشاور کو 10رنز سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

پشاور زلمی 2017ء، 2018ء اور اب 2019ء کے سیزن میں مسلسل تیسری مرتبہ پی ایس ایل کا فائنل کھیل رہی ہے۔

پشاور نے دوسرے سیزن کے فائنل میں کوئٹہ کو 58 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جب کہ تیسرے سیزن کے فائنل میں اُسے اسلام آباد یونائیٹڈ نے 3 وکٹوں سے ہرادیا تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا بھی یہ تیسرا پی ایس ایل فائنل ہے۔ اس سے قبل وہ 2016ء اور 2017ء میں فائنل کھیل چکی ہے۔ پہلے سیزن میں کوئٹہ کو فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں 6 وکٹوں سے شکست ہوئی تھی جب کہ دوسرے سیزن میں پشاور زلمی نے 58 رنز سے ہرایا تھا۔

پشاور زلمی کا بیٹنگ اسکواڈ

فائنل میں پشاور زلمی کا انحصار اوپنر کامران اکمل اور امام الحق کے ساتھ ساتھ کائرون پولارڈ اور کپتان ڈیرن سیمی پر ہوگا۔

امام الحق نے پشاور کی طرف سے 131 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ سب سے زیادہ 338 رنز بنارکھے ہیں۔ اُن کا کسی بھی اننگز میں سب سے زیادہ اسکور 59 رنز ہے۔

ایونٹ میں امام الحق کی نصف سینچریوں کی تعداد چار ہے۔ کوئٹہ کے شین واٹسن نے بھی اتنی ہی نصف سینچریاں بنا رکھی ہیں۔

کامران اکمل امام الحق سے صرف دو رنز پیچھے ہیں۔ انہوں نے اب تک ایونٹ میں مجموعی طور پر 336 رنز بنائے ہیں جس میں تین نصف سینچریاں شامل ہیں۔ اُن کا اسٹرائیک ریٹ 138 ہے جبکہ وہ 17 چھکے بھی لگا چکے ہیں۔

کائرون پولارڈ مشکل صورتِ حال میں دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ بیٹنگ کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ کم گیندوں پر زیادہ رنز کی ضرورت ہو تو کپتان اُنہیں ہی گراؤنڈ میں اتارتا ہے۔

پولارڈ نے ایونٹ کی 12 اننگز میں 277 رنز بنائے ہیں۔ ان کی نصف سینچریوں کی تعداد دو ہے جب کہ اسٹرائیک ریٹ 182 اور چھکوں کی تعداد 23 ہے۔

پشاور زلمی کے کپتان کا شمار بھی جارح مزاج بیٹسمینوں میں ہوتا ہے۔ اُنہیں رنز لینے سے روکنا حریف بالرز کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ سیمی ایونٹ میں مجموعی طور پر 210 رنز بناچکے ہیں۔ ان کا اسٹرائیک 148 اور زیادہ سے زیادہ اسکور 46 رنز ہے۔

پشاور زلمی کا بالنگ اٹیک

پشاور زلمی کو بالنگ کے شعبے میں حسن علی جیسے دنیا کے بہترین بالر کے ساتھ ساتھ وہاب ریاض، سمین گل اور ٹائمل ملز کی خدمات حاصل ہیں۔

حسن علی پشاور زلمی کے سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ وہ ایونٹ میں سب سے زیادہ 25 وکٹیں لے کر ٹاپ پر ہیں۔ انہوں نے 6 اعشاریہ 73 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ تین مرتبہ ایک اننگز میں 4 وکٹیں لی ہیں۔ ان کی بہترین بالنگ 15 رنز کے عوض 4 وکٹ ہے۔

وہاب ریاض 16 وکٹوں کے ساتھ ایونٹ کے تیسرے کامیاب بالر ہیں۔ ان کا اکانومی ریٹ 6 اعشاریہ 96 ہے اور بہترین بولنگ 17 رنز دے کر تین وکٹ ہے۔ وہاب ریاض اپنی تیز گیندوں سے بیٹسمین کو پریشان کرنے اور ڈیتھ اوورز میں مہارت کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔

ثمین گل، ملز اور کائرون پولارڈ نے بھی پشاور زلمی کے لیے اچھی بالنگ کا مظاہرہ کیا ہے اور فائنل میں اُن سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بلے باز

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پی ایس ایل کے رواں سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے شین واٹسن کے علاوہ ان فارم عمر اکمل، ریلی روسوؤ، احمد شہزاد جیسی رنز مشینوں کی خدمات حاصل ہیں جو کسی بھی وقت حریف ٹیم کی طرف جاتی ہوئی فتح کا رخ اپنی طرف موڑ سکتے ہیں۔

شین واٹسن فائنل کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ کپتان سرفراز احمد اُن سے ایسی ہی کارکردگی کی توقعات رکھے ہوئے ہیں جیسی انہوں نے اب تک دکھائی ہے۔

آسٹریلوی کرکٹر پی ایس ایل کے حالیہ سیزن میں 22 چھکوں اور 42 چوکوں کی مدد سے 423 رنز بناکر ٹاپ پر ہیں اور بظاہر کوئی بھی بیٹسمین ان کی پوزیشن کے لیے خطرہ بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔

شین واٹسن کا اسٹرائیک ریٹ 144 اور نصف سینچریوں کی تعداد 4 ہے جبکہ 91 ناٹ آؤٹ اُن کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور ہے۔

عمر اکمل بھی اس وقت بھرپور فارم میں ہیں اور پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دورۂ آسٹریلیا کے لیے قومی ٹیم میں بھی جگہ بنا چکے ہیں۔ فائنل میں اُن کی بیٹنگ ٹیم کو پہلی مرتبہ ٹائٹل کا حق دار بناسکی ہے۔

عمر اکمل 137 اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 16 چھکوں اور 18 چوکوں کے ساتھ 277 رنز بناچکے ہیں جو کوئٹہ کے کسی بھی بیٹسمین کا دوسرا سب سے زیادہ اسکور ہے۔

ریلی روسوؤ 256 اور احمد شہزاد 253 رنز بناکر ٹیم کی بیٹنگ لائن کے اہم ترین ستون ہیں۔

گلیڈی ایٹرز کے بالرز

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بالرز کو پشاور زلمی کے بیٹسمینوں کو زیر کرنے کے لیے کچھ خاص کرنا ہوگا۔

کوئٹہ کے ٹاپ بالر سہیل تنویر ہیں جو ایونٹ کے پانچویں کامیاب بالر ہیں۔ وہ سات رنز کے اکانومی ریٹ سے مجموعی طور پر 15 وکٹیں لے چکے ہیں۔ ان کی بہترین بالنگ 21 رنز کے عوض 4 وکٹ ہے۔

محمد نواز، فواد احمد، محمد حسنین اور غلام مدثر بھی ٹیم کو پہلی مرتبہ پی ایس ایل چیمپئن بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ لیکن دیکھنا ہے کہ وہ ایونٹ کے سب سے بڑے میچ میں اپنی بالنگ سے رنز کی بھوک رکھنے والے پشاور زلمی کے بیٹسمینوں روک پاتے ہیں یا نہیں؟

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top