خاندان میں شادی کے باعث نئی نسل مہلک جینیاتی امراض کا شکار

Cousins.jpg

پاکستان ، بھارت اور دنیا دیگر ممالک میں اپنے ہی خاندان میں شادی کرنے کے رواج کے باعث نو مولود بچے مہلک جینیاتی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

بچوں میں پیدائشی طور پر موجود جینیاتی امراض کا باقاعدہ معائنہ اور ٹیسٹس ضروری ہوتے ہیں تاکہ جہاں تک ممکن ہو، قابل علاج امراض سے،،،،،حفوظ رہا جا سکے لیکن پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم نوزائیدہ بچوں کے یہ ٹیسٹس کیے جاتے ہیں۔

ٹیسٹس نہ ہونے کے باعث بچے زندگی بھرکے لئے ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ انتہائی صورتحال میں ان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

یہ بات ماہرین نے ورلڈ ریئر ڈیزیز ڈے یا ’نایاب امراض کے عالمی دن پر آغا خان یونیورسٹی کے تحت ہونے والی ایک کانفرنس میں بتائی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں میں پیدائشی طور پر پائے جانے نایاب امراض کے ٹیسٹس کروانا لازمی ہیں مثلا ً چین، یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں کنجینیٹیل ہائپو تھائرائڈازم یا سی ایچ ٹی کا ٹیسٹ لازماً کیا جاتا ہے۔

کنجینیٹیل ہائپو تھائرائڈازم ایک ایسا پیدائشی مرض ہے جس میں تھائرائڈ گلینڈ میں خامروں کی افزائش محدود ہو جاتی ہے۔ تاہم پاکستان میں صرف ایک نجی ہسپتال اور ایک خیراتی ادارہ ہے جہاں اس ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے۔

سی ایچ ٹی ایک ایسا مرض ہے جس کی کوئی ظاہری علامات نہیں ہوتیں اور پیدائش کے دو ہفتے کے اندر اندر یہ نوزائیدہ بچے کے ذہنی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ اگر پیدائش کے بعد بچے کا مکمل باقاعدہ معائنہ کیا جائے تو سی ایچ ٹی کی تشخیص کی جا سکتی ہے اور اس کے بعد عام طور پر دستیاب ایک کم قیمت دوا لیووتھائراکسین کی کم خوراک کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ کراچی میں قائم ایک اسپتال میں سی ایچ ٹی اور دیگر نایاب امراض مثلاً سسٹک فائبروسس، کنجینیٹل ایڈرینل ہائپر پلیسیا، بائیو ٹائنیڈیس ڈیفیشئنسی اور گیلیکٹوسیمیا کی تشخیص کی سہولت موجود ہے۔

پاکستان میں پیدائش کے بعد بچوں میں ان تشخیصی ٹیسٹس کا ہونا عنقا ہے تاہم اس حقیقت کو جاننے کی ضرورت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پیدائشی طور پر موجود نایاب امراض کی تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹس پچھلے 50 سالوں سے کیے جارہے ہیں۔

اس سیمینار میں ملک بھر کے سرکاری اور نجی اداروں سے تعلق رکھنے والے جینیاتی تحقیق کار، پیتھالوجسٹس اور بچوں کی صحت کے ماہرین نے شرکت کی اور ایک مشاورتی گروپ پاکستان انہیریٹڈ میٹابولک ڈیزیز نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔

پاکستان سوسائٹی آف کیمیکل پیتھالوجی کی راہنمائی میں یہ نیٹ ورک پیدائشی طور پر پائے جانے والے میٹا بولک امراض کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق، طبی تعلیم اور معالجاتی طریقہ کار میں موجود خرابیوں کی کھوج اور ان کی بہتری کے لیے کام کرے گا اور نوزائیدہ بچوں کے مکمل اور باقاعدہ معائنے کو رائج کرنے اور اس تک رسائی کے لیے پالیسی اصلاحات پر کام کرے گا۔

فی الوقت قومی سطح پر نایاب جینیاتی امراض کے پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی تحقیق یا مطالعہ نہیں کیا جا رہا اور ان امراض کے متعلق بیشتر اعدادوشمار محض ہسپتالوں تک محدود ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اے کے یو کے پیتھالوجی اینڈ لیبارٹری میڈیسن کی ڈاکٹر عائشہ حبیب نے کہا، "اگر ایسے ادارے اعدادوشمار کا بڑے پیمانے پر تبادلہ کریں تو پیدائشی طور پر سب سے زیادہ پائے جانے والے جینیاتی مرض کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔”

ڈاکٹر عائشہ حبیب نے مزید کہا کہ اس طرح کے اشتراک کی مدد سے دیگر اہم اور پیچیدہ سوالات کے جوابات کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے مثلاً کیا کوئی خاص پیدائشی مرض کسی خاص لسانی یا علاقائی گروہ میں زیادہ پایا جاتا ہے یا یہ کہ کیا کچھ علاقوں میں پائے جانے والے نایاب امراض کسی خاص جینیاتی ملاپ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اے کے یو میں اسسٹنٹ پروفیسر اور پاک۔آئی ایم ڈی۔نیٹ کی چیئر ڈاکٹر لینا جعفری نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور ضوابطی قوانین کی بدولت مغرب میں اب یہ ممکن ہے کہ ایک ہی ٹیسٹ کی مدد سے 50 جینیاتی امراض کی جانچ کی جا سکے۔ ہم ملک بھر میں موجود تحقیق کاروں اور صحت عامہ فراہم کے ماہرین کے اشتراک کو فروغ دے رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم ٹیسٹس کا ایک پروگرام تشکیل دے سکیں گے جو نوزائیدہ بچوں کی صحت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات اور تحفظ فراہم کر سکے۔ اس کے بعد ہم صوبائی اور وفاقی سطح پر ان اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دیں گے تاکہ صحت عامہ کی صوبائی اور وفاقی وزارتیں ان کے اطلاق کے لیے کام کریں اور ہر پیدا ہونے بچے کے ان ٹیسٹس کو یقینی بنایا جا سکے۔

طویل المدت بنیادوں پر یہ ادارہ بچوں کے امراض کے ماہرین کی صلاحیت سازی کی کوشش کرنے اور مریضوں اور صحت عامہ کے ماہرین میں عمومی آگاہی میں اضافے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ پیدا ہونے والا ہر بچہ معمول کے مطابق زندگی گزار سکے۔

کانفرنس میں موجود دیگر مقررین میں شامل تھے: امریکہ کی جینومکس لیب کے مالیکیولر جینیٹائسسٹ ڈاکٹر حسن عسکری؛ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال رضا اور ڈاکٹر بشری افروز؛ اور اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے ڈاکٹر سلمان کرمانی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top