بدقسمتی نے لاہور قلندرز کا پیچھا نہیں چھوڑا

Lahore.jpg

بدقسمتی نے اس سیزن میں بھی لاہور قلندرز کا پیچھا نہیں چھوڑا اور وہ پچھلے تین سیزنز کی طرح اس بار بھی لیگ مرحلے میں ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی۔یہ مسلسل چوتھی مرتبہ ہے جب لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف مرحلے میں جگہ نہیں بناسکی ۔

لاہور قلندرز کے مالک رانا فواد بھی پے درپے ناکامیوں کے بعد مایوس ہوگئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کا مسلسل چار سال سے نیچے رہنا ناقابل یقین ہے۔

پہلے کوالیفائر میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی آج یعنی13مارچ کو آمنے سامنے ہوں گی جو ٹیم جیتے گی وہ فائنل کے لئے کوالیفائی کرلے گی۔

14مارچ کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز الیمنیٹر میں مدمقابل ہوں گی۔ ہارنے والی ٹیم گھر کی راہ لے جبکہ فاتح ٹیم دوسرے کوالیفائر میں پہلے کوالیفائر کی شکست خوردہ ٹیم کا سامنا کرے گی۔ ان دونوں میں جو ٹیم جیتے گی وہ 17مارچ کو فائنل میں پہلے کوالیفائر کی فاتح ٹیم سے ٹکرائے گی۔

لاہور قلندرز کی ٹیم پی ایس ایل فرنچائزز کی واحد ٹیم ہے جو صرف پی ایس ایل سیزنز کے دوران نہیں بلکہ آف سیزن بھی کرکٹ کے حوالے سے مختلف پروگرامز میں سرگرم نظر آتی ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں ٹیلنٹ ہنٹ سے لے کر نئے لڑکوں کی بیرون ملک لیگز میں شرکت کے ساتھ اُن کے ٹیلنٹ کو گروم کرنے تک کئی پروگرامز کرتی ہے۔

حالیہ سیزن میں اُسے ابتداء ہی میں دھچکا لگا جب کپتان محمد حفیظ ان فٹ ہوکر ایونٹ سے باہر ہوگئے، اس کے بعد سب سے اہم کھلاڑی اے بی ڈیولیئرز ان فٹ ہوکر آخر کے تین، چار میچز کھیلے بغیر ہی وطن لوٹ گئے۔

ڈیولیئرز نے چند میچز میںکپتانی بھی کی لیکن بعد فخرزمان کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی لیکن ڈیولیئرز وہ کارکردگی نہ دکھاسکے جس کی رواں سیزن میں توقع کی جارہی تھی۔

لاہور قلندرز پی ایس ایل فور کے دس میچوں میں سے صرف تین میچ ہی جیت سکی۔ایک میچ کراچی کنگز کے خلاف 22 رنز سے،دوسرا ملتان سلطانز کے خلاف چھ وکٹ جبکہ تیسرا میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف آٹھ وکٹوں سے جیتا، یوں لیگ میچز میں ہی اُس کا سفر تمام ہوگیا۔

پی ایس ایل2018ء میں تو لاہور قلندرز کی کارکردگی انتہائی خراب رہی، مجموعی طور پر دس میچز میں سے اُسے صرف دو میچز میں کامیابی مل سکی تھی۔

پی ایس ایل 2017ءمیں لاہور قلندرز کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی اور آٹھ میچوں میں سے تین میں جیت اُس کا مقدر بنی،ایونٹ میں پانچ فرنچائز ہونے کی وجہ سے ہر ٹیم نے آٹھ، آٹھ میچ کھیلے تھے۔

اسی طرح پی ایس ایل 2016ء میں لاہور قلندرز نے آٹھ میچوں میں سے صرف دو میں ہی کامیابی حاصل کی تھی۔

یوں لاہور قلندرز کی ٹیم چاروں سیزنز میں مجموعی طور پر 36میچ کھیل چکی اور صرف 10 جیتی ہے جبکہ 26میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اس طرح جیت کا تناسب صرف 27 اعشاریہ 7 فیصد ہے۔

امید ہے لاہور قلندرز کی ٹیم ہار ہار کر تھکنے کے بجائے آئندہ برس ایک نئے جذبے اور نئے کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اُترے گی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top