عمر اکمل کی بیٹنگ، کیا واقعی داغ دھل گئے؟

UmarAkmal_L.jpg

کرکٹ کیریئر کے دوران نشیب و فراز کا شکار رہنے والے پاکستانی بیٹسمین عمر اکمل نے پاکستان سپر لیگ فور کے پہلے میچ میں عمدہ بیٹنگ کرکے ناصرف اپنی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فتح میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ناقدین کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ قومی سلیکٹرز کی توجہ بھی حاصل کرلی ہے۔

پاکستان کے سابق مایہ ناز ٹیسٹ کرکٹر اور آف اسپنر ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ جو لوگ کہتے تھے کہ عمر اکمل کا کیریئر ختم ہوگیا ہے، عمر نے انہیں اپنے بیٹ سے جواب دے دیا۔

عمر اکمل نے پشاور زلمی کے خلاف 150 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 50 گیندوں پر تین چھکوں اور سات چوکوں کی مدد سے 75رنز بنائے۔

عمر اکمل مختلف مواقع پر ضابطہ اخلاق کے حوالے سے تنازعات میں گھرے رہے ہیں اور کئی سال سے ٹیم سے باہر ہیں۔

دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے عمر اکمل نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں آخری مرتبہ جون 2016ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی جبکہ آخری ٹی20 انٹرنیشنل میچ ستمبر 2016ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں کھیلا تھا۔

2009ء میں ون ڈے کیریئر کا آغاز کرنے والے عمر اکمل 116 میچوں میں 34 اعشاریہ 59 کی اوسط سے 3ہزار 44 رنز بنا چکے ہیں جن میں دو سنچریاں اور 20 نصف سنچریاں شامل ہیںجبکہ زیادہ سے زیادہ اسکور 102 ناٹ آؤٹ ہے۔

عمر اکمل نے 82 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان ٹیم کی نمائندگی کی اور 122 اعشاریہ 90 کے اسٹرائیک ریٹ سے ایک ہزار 690رنز بنائےجس میں 8 نصف سنچریاں شامل ہیں، کسی بھی اننگز میں زیادہ سے زیادہ اسکور 94 ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ماضی کے نامور آف اسپنر ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ عمر اکمل نے پہلےہی میچ میں شاندار کھیل پیش کیا۔ پاکستان کو ورلڈ کپ میں اُن کی ضرورت ہے، وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہے۔

سابق آف اسپنر نے عمر اکمل کی اننگز کو پی ایس ایل کی اب تک کی سب سے اچھی اننگز قرار دیا۔

ثقلین مشتاق نے پاکستان کی طرف سے 49 ٹیسٹ کھیلے اور 208 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ کسی بھی ٹیسٹ میں 115رنز کے عوض 10اُن کی بہترین بولنگ ہے جبکہ 169 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ثقلین مشتاق نے 288 شکار کیے، بہترین بولنگ 20 رنز دے کر 5 وکٹیں رہی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top