’لاہور کے قلندرز‘ کو مسلسل شکست کا سامنا

Lahore.jpg

پی سی ایل کے دبئی میں ہونے والے پہلے مرحلے کے تمام میچزاختتام کو پہنچے ۔ کل یعنی بدھ سے دوسرے مرحلے کےآٹھ میچز شارجہ میں شروع ہونے جارہے ہیں لیکن اس موقع پر پہلے مرحلے میں ہونے والے سات میچز کا تجزیہ دلچسپی سے خالی نہیں ۔

ان سات میچز میں پہلے ذکر اس ٹیم کا جسے مسلسل چوتھی اور پی ایس ایل کے اب تک کے تین اور اس وقت تک سیزن فورمیں ہونے والے میچز میں پانچویں بار شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ یہ ہے ’ لاہور قلندرز ‘ ۔

لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ کی سب سے متحرک فرنچائز ہے جو صرف سیزن کے دوران ہی نہیں بلکہ آف سیزن بھی ’ٹیلنٹ ہنٹ‘ سمیت مختلف سرگرمیوں مصروف رہتی ہے لیکن ٹیم میں تجربہ کار اور اچھے ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت کے باوجود ’لاہور کے قلندرز ‘وہ کارکردگی نہیں دکھاسکے جس کی ان سے توقع کی جاتی رہی ہے۔

سیزن فور میں تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ اور مسٹر 360 اے بی ڈیولیئرز کی شمولیت کے بعد بھی لاہور قلندرز اپنے پہلے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ سے 5 وکٹوں سے شکست کھائی گئی۔

لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ بیس اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر171رنز بنائے جس میں فخرزمان کے دھواں دار 65 اور سہیل اختر کے 37 رنز بھی شامل ہیں۔

بظاہر 171 رنز اچھا اسکور نظر آرہا تھا لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ نے یہ اسکور 4 گیندوں پہلے 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا اور لاہور قلندرز کو اپنے پہلے ہی میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

حسین طلعت کے 37 اور آصف علی کے ناقابل شکست 36 رنز نےٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لاہور قلندرز نے پی ایس ایل میں اپنے پہلے میچ میں شکست کھائی ہو بلکہ اب تک ہونے والے تمام سیزنز میں لاہور قلندرز نے اپنا پہلا میچ ہارا ہے۔

پی ایس ایل 2018ء
پاکستان سپر لیگ کے سیزن تھری میںبھی لاہور قلندرزکو اپنے پہلے میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس مرتبہ اسے ایونٹ میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی ملتان سلطانز کی ٹیم نے ہرایا۔

ملتان سلطانز کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کمار سنگاکارا کے 63، شعیب ملک کے 48 اور احمد شہزاد کے 38 رنز کی بدولت پانچ وکٹوں کے نقصان پر 179رنز بنائے۔

ہدف کے تعاقب میں لاہور قلندر زکی پوری ٹیم 17اعشاریہ 2 اوورز میں 136رنز بناسکی، فخرزمان 49 اور عمر اکمل 31رنز بناکر نمایاں رہے۔

لاہور قلندرز کے جنید خان اور عمران طاہر نے تین، تین جبکہ محمد عرفان اور کائرون پولارڈ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس بار بھی لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف مرحلے کے لئے کوالیفائی نہ کرسکی اور ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

پی ایس ایل 2017ء
پاکستان سپر لیگ سیزن ٹو میں لاہور قلندرز نے اپنا پہلا میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف کھیلا تھا جس میں کوئٹہ نے لاہور کو 8رنز سے ہرایا تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 136رنز بنائے،ریلی روسوؤ60رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

ہدف کے تعاقب میںلاہور قلندرز کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اورپوری ٹیم 128رنز پر ڈھیر ہوگئی، جیسن روئے27جبکہ گرانٹ ایلیٹ اور سنیل نارائن 26 ،26 رنز کے ٹاپ اسکورر رہے۔

اس سیزن میں بھی لاہور قلندرز کی ٹیم پلے آف مرحلے تک نہ پہنچ سکی،آٹھ میچوں میں سے تین میں جیت مقدر بنی جبکہ 5 میں شکست ہوئی۔

پی ایس ایل 2016ء
پاکستان سپر لیگ کے اس سیزن میں لاہورقلندرز نے پہلا میچ کراچی کنگز کے خلاف کھیلا تھا جس میں اسے 7 وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر لاہورقلندرز کو بیٹنگ کی دعوت دی، کرس گیل جیسے جارحانہ مزاج رکھنے والے بیٹسمین کی موجودگی کے باوجود لاہور قلندرز کی ٹیم 125رنز ہی بناسکی تھی، کسی بھی بیٹسمین کا سب سے زیادہ اسکور محمد رضوان کے 37 رنز تھے۔

لاہور قلندرز کی تباہی کے ذمہ دار محمد عامر تھے، انہوں نے صرف 27رنز دے کر تین بیٹسمینوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

لینڈل سیمنز کے 62 اور شکیب الحسن کے 51 رنز کی بدولت کراچی کنگز نے 126رنز کا ہدف 16 ویں اوور کی پانچویں گیند پر ہی حاصل کرلیا تھا۔

اس سیزن میں لاہور قلندرز کی ٹیم پلے مرحلے سے پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی، لاہور قلندرز نے مجموعی طور پر 8 میچ کھیلے، 6 ہارے اور صرف دو جیتے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور قلندرز کی ٹیم پی ایس ایل کے چوتھے سیزن میں پچھلے تین سیزنز کی روایت کو برقرار رکھتی ہے یا روایت شکنی کرتے ہوئے پلے آف مرحلے کا حصہ بنتی ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top