بھارتی سیاست میں ’نئی عمر کی نئی فصل‘ تیار ہوگئی

Priyanka-Gandhi.jpg

بھارت کی سیاست میں نہرو خاندان کی جڑیں جس قدر پھیلی ہوئی ہیں وہ اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسی خاندان نے سیاستی وراثت کو جنم دیا جو جواہر لال نہرو سے ہوکر ان کی بیٹی، دو نواسوں ، نواسوں کی دوبیویوں ، ایک پڑ پوتے اور اب ایک پڑپوتی’پریانکا گاندھی ‘ تک جا پہنچا ہے ۔

یہ ایک دو برس کی بات نہیں سالوں کی کہانی ہے ۔ اس کہانی کا آغاز 1947سے ہوتا ہے جب جواہر لال نہرو بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔ ان کا دور اقتدار 17سالوں پر محیط رہااور ان کی 27مئی سن 1964کو موت کے ساتھ ختم ہوا۔

سن 1966کو اندرا گاندھی نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا اورگیارہ سال تک اقتدار سنبھالے رکھا۔ 1977سے 1984تک وہ مزید دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں جبکہ ان کے ایک بیٹے سنجے گانڈھی نے بھی درمیانی مدت میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا مگر بے وقت موت نے انہیں سیاست سے ہی نہیں اس دنیا سے بھی رخصت کردیا۔

سن 1984میں اندراگاندھی کو قتل کردیا گیا اور یوں ان کے ایک اور بیٹے راجیو گاندھی کی سیاست میں اینٹری ہوئی مگر وہ بھی کچھ ہی سالوں بعد قتل کردیئے گئے ۔کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی جگہ ان کی بیوی سونیا گاندھی کو وزیراعظم کے طور پر سامنے آنا چاہئے تھا مگر غیر ملکی ہونے کے سبب وہ اقتدار میں خود تو نہ آسکیں لیکن ان کے دست راست من موہن سنگھ کو وزیراعظم بنادیا گیا۔

اسی اثنامیں راجیو کے بیٹے راہول گاندھی سن بلوغت کو پہنچے اور رفتہ رفتہ سیاسی ایوانوں کی سیڑھیاں چڑھتے گئے ۔ حال ہی میں ان کی پارٹی نے تین اہم ریاستوں میں انتخابات جیتے ہیں اور امیدکی جارہی ہے کہ راہول گاندھی ہی بھارت کے اگلے وزیراعظم ہوں گے ۔

ابھی چونکہ پارلیمانی انتخابات میں کچھ ماہ کا وقت باقی ہے لہذا ایسے میں ان کی بہن اور سونیا و راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا گاندھی کی سیاست میںآمد کو لوگ ’نئی عمر کی نئی فصل‘ قرار دے رہے ہیں۔ انہیں نہرو گاندھی خاندان کے سیاسی سفر میں بہترین پیش رفت بھی کہا جارہا ہے ۔

گزشتہ پیر کو پریانکا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بھارت کے سب سے گنجان آباد صوبے اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم کے ساتھ کیا۔وہاںمئی میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اور امریکی نشریاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اچانک ہی اپنی چھوٹی بہن پریانکا کو جماعت کا جنرل سیکرٹری بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اتر پردیش میں پریانکا اپنی جماعت کا چہرہ ہوں گی۔ قومی اسمبلی میں قانون سازوں کی سب سے زیادہ تعداد اسی ریاست سے جاتی ہے۔ اس وقت یہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا غلبہ ہے۔

اگرچہ پریانکا ماضی میں بھی اپنی والدہ سونیا گاندھی اور اپنے بھائی راہول گاندھی کی انتخابی مہم کے انتظامات سنبھال چکی ہیں لیکن وہ کبھی پارٹی کے کسی عہدے پر فائز نہیں رہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے ہندی ورژن کے ایڈیٹر پرتاب سوم وانشی کہتے ہیں کہ کانگریس میں لیڈر تو بہت ہیں لیکن پریانکا عوام کے لئے بہت کشش رکھتی ہیں۔ ماضی میں انہوں نے جس طرح امیٹھی اور رائےبریلی میں مہم چلائی تھی اور وہاں ان کے گرد جتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے، اور عوام سے رابطہ کرنے کا ان کا جو انداز تھا، اس سے لگتا ہے کہ جنوبی اتر پردیش میں، جہاں پریانکا انتخابی مہم چلا رہی ہیں، کانگریس کچھ کر دکھائے گی۔

معروف صحافی اور دانش ور ڈاکٹر منیش کمار کہتے ہیں کہ سیاست میں ان کی آمد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ سن 2004 سے ہی سیاست میں ہیں۔ یہ اسٹریٹیجی کا ایک حصہ ہے۔ سن 2004 کے بعد بھارت میں جتنے بھی انتخاب ہوئے تھے، ہر انتخاب میں پریانکا گاندھی نے سیاسی مہم چلائی تھی۔ سن 2004 سے پہلے جب سونیا گاندھی نے ملک بھر میں جلسے کر کے کانگریس کو متحرک کیا تھا اور بی جے پی کو شکست دے کر اپنی حکومت بنائی تھی تو اس انتخابی مہم کی مرکزی منصوبہ ساز پریانکا گاندھی ہی تھیں۔ سونیا گاندھی اس مہم کے دوران جو بھی تقریر کرتی تھیں، اس کا مسودہ پریانکا ایک اور شخص کے ساتھ مل کر لکھا کرتی تھیں۔

گزشتہ سال، صوبائی انتخابات میں بی جے پی کو زرعی شعبے کی ناقص کارکردگی اور بے روزگاری کے دباؤ کی وجہ سے ناکامیوں کا سامنا رہا جس سے وزیر اعظم مودی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اب کانگریس اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

47 سالہ پریانکا کی شکل و شباہت، اپنی دادی اور بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی سے بہت ملتی ہے۔ پریانکا کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بطور مقرر ووٹروں کے ساتھ ایک تعلق پیدا کر لیتی ہیں۔ اندرا گاندھی ملک کی واحد خاتون وزیر اعظم تھیں جنہیں ایک طاقت ور خاتون کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

کانگریس کے ایک حامی، 45 سالہ فضیل احمد خان کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے اندرا گاندھی لوٹ آئی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے کسان یہ چاہتے ہیں کہ راہول گاندھی وزیر اعظم ہوں، اور پریانکا ریاست کی وزیر اعلیٰ۔

پرتاب کہتے ہیں کہ کانگریس نے اتر پردیش میں اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا اشارہ دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ پریانکا گاندھی اتر پردیش کی چیف منسٹر بنائی جا سکتی ہیں۔

تاہم منیش کمار کہتے ہیں کہ پریانکا وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ چیف منسٹر کے لئے الیکشن نہیں لڑیں گی کیونکہ وہ صرف یو پی تک ہی محدود نہیں رہیں گی بلکہ وہ پورے بھارت میں کانگریس کی تصویر بن کر انتخابات میں حصہ لیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کانگریس پارٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

لیکن بھائی بہن کی اس جوڑی کے لئے، یہ سب اتنا آسان نہیں ہو گا۔ اتر پردیش 22 کروڑ آبادی کی ایک غریب ریاست ہے۔ وہاں ذات برادی کی بنیاد پر پہلے ہی دو علاقائی جماعتیں، بی جے پی کے ساتھ مل کر اقتدار میں آنے کے لئے کوشاں ہیں جس سے کانگریس پارٹی کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top