ٹوکیو اولمپکس میں ’کچرے کے تمغے‘ ملیں گے

Olympic-medals.jpg

جی ہاں درست پڑھا آپ نے ۔ اگلے برس ٹوکیواولمپکس میں کھلاڑیوں کوکچرے سے بنے تمغے دیئے جائیں گے ، مگر یہ کچرا برقی ہوگا یعنی ’ای ویسٹ‘سے نکلنے والی دھاتوں سے ڈھلے تمغے۔

دنیا بھر میں ہر روز پرانے برقی آلات، کیمرے، اسمارٹ فون اور کمپیوٹر آلات کوڑا کرکٹ کی نذر کردیئے جاتے ہیں جو دراصل ’الیکٹرونک ویسٹ‘، ’ای ویسٹ ‘یا اردو میں کہیں تو’برقی کچرا‘کہلاتا ہے ۔

یہ ’برقی کچرا‘ ماحول کے لیے ایک خطرناک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ماہرین پریشان ہیں کہ آخر اس کچرے کا کیا کیا جائے؟ بس اسی ویسٹ سے اگلے سال ٹوکیومیں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں تقسیم ہونے والے تمغے اس کچرے سے بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصدعوامی شعور اور آگہی ہے ۔

ٹوکیو اولمپکس کمیٹی نے سال 2017 سے ہی اس پر کام شروع کردیا تھا اور اب خبر یہ ہے کہ بڑی تیزی سے برقی کچرے سے قیمتی دھاتیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کمیٹی کا خیال ہے کہ اگلے مہینے تک یہ کام مکمل ہوجائے گا۔ اس حوالے سے ٹوکیو کی بلدیہ نے غیرمعمولی انتظامات کئے ہیں۔ملک کی ایک ہزار پانچ سو چورانے میونسپلٹیوں میں برقی کچرا آفس قائم کئے گئےہیں۔

گزشتہ سال نومبر تک وہاں 47ہزار 488 ٹن برقی کوڑا کرکٹ کا ڈھیر جمع ہوچکا تھا۔ اسی دوران 2400 ڈوکومو اسٹوروں میں 50 لاکھ پرانے فون بھی جمع کرلئے گئے۔

جون2018 میں کانسی کے تمام میڈلز کے لیے ضروری دھات جمع ہوچکی ہے۔ سونے کے تمغوں کی 93اعشاریہ7 فیصد مقدار اکتوبر تک جمع کرلی گئی تھی جبکہ چاندی کے میڈلز کے لیے درکار چار اعشاریہ پچیاسی فیصد مقدار بھی اکھٹا کی جاچکی تھی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top