پاکستان میں ریئل اسٹیٹ انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

Untitled-01669.jpg

ایپ کا سکرین شاٹ

اسلام آباد میں قائم ایک ادارہ ’معمار‘ پاکستان میں مکانوں اور عمارتوں کی تعمیر اور خرید و فروخت اور ریئل اسٹیٹ بزنس میں جدید ٹکنالوجی کو متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ’معمار‘ کے شریک بانی محمد نقی اعجاز نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ملکوں میں پہلے سے موجود ہے، لیکن پاکستان کی ریئل اسٹیٹ میں اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے کی تیار کردہ ایک موبائل ایپ کے ذریعے عمارت کو تعمیر کیے جانے قبل بالکل اسی طرح دکھایا جا سکتا ہے جس طرح وہ تعمیر کے بعد نظر آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دو ٹیکنالوجیز یعنی ورچوئل ریئلیٹی یا وی آر اور آ گمنٹڈ رئیلٹی یا اے آر کی مدد سے عمارت کے تعمیر ہونے سے پہلے یہ دکھا سکتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر کیسی ہو گی۔ 

محمد نقی اعجاز

انہوں نے کہا کہ ان کا ایپ اسمارٹ فون پر کام کرتا ہے۔ اگر آپ فون کا کیمرہ آن کر کے اس پلاٹ کو دیکھیں جہاں عمارت بنائی جانی ہے تو وہاں آپ کو عمارت نقشے کے مطابق تعمیر شدہ دکھائی دے گی۔ آپ اسے ہر پہلو سے دیکھ سکیں گے۔ اور اس میں رد و بدل کا مشورہ دے سکیں گے۔

نقی اعجاز کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی سے خریدار اور فروخت کار دونوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر خریدار کو ٹائلیں پسند نہیں آ رہیں تو وہ انہیں تبدیل کروا سکتا ہے۔ فرنیچر پسند نہیں ہے تو اسے بدلا جا سکتا ہے وغیرہ۔

جب کہ فروخت کاروں کو اسے بیچنے اور خریدار کو مطمئن کرنے میں آسانی ہو گی، جس سے اس کاروبار میں تیز آئے گی۔ اور وہ خریدار کی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کر کے اپنا وقت اور رقم دونوں بچا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کو بھی ان کی ایپ کے ذریعے پاکستان کی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا بہتر موقع میسر آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’معیار‘ کا بنایا ہوا ایپ حکومت کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام میں کنسٹریشن کرنے والوں اور مکان خریدنے والوں، دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

نقی اعجاز کا کہنا تھا کہ ان کا ایپ پلے اسٹور یا ایپ اسٹور پر دستیاب نہیں ہے کیونکہ یہ کلائنٹس کے لیے ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ریئل اسٹیٹ انڈسٹری میں ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ملکوں کی نسبت تاخیر سے آتی ہے اور وہ اس خلیج کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے اس شعبے میں نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اتنی ہی تیزی سے استعمال کیا جائے جیسا کہ دوسرے شعبوں میں کیا جاتا ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top