سرطان کے مرض میں تشویشناک حد تک اضافہ

Untitled-01651.jpg

سرطان کا ایک مریض سرجری کے انتظار میں۔ فائل فوٹو

سرطان کے بارے میں نئے اعدادو شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سرطان پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے کا اندازہ ہے کہ اس سال سرطان کے 18 ملین (ایک کروڑ 80 لاکھ ) نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد 96 لاکھ ہے۔

اس سلسلے میں جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ میں 185 ملکوں میں سرطان کی چھتیس اقسام کے بارے میں اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر پانچ مروں میں سے ایک اور ہر چھ عورتوں میں سے ایک کو اپنی زندگی میں سرطان کے مرض کا سامنا ہوتا ہے اور اس مرض میں مبتلا مردوں کی موت کی شرح عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرطان کے نئے کیسز میں نصف سے زیادہ اموات ایشیا میں ہوئیں اور اس کی جزوی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا تقریبا 60 فیصد اس خطے میں آباد ہے۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر نئے کیسز میں پھیپھڑے اور چھاتی کا سرطان سر فہرست رہا اور اس کے بعد آنتوں، پروسٹیٹ اور پیٹ کے سرطان کے کیسز ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق پھیپھڑے کا سرطان موت کے کلیدی اسباب میں شامل رہا جس کی وجہ سے 2018 میں 18 لاکھ اموات ہوئیں ۔

سرطان کی تحقیق کے بین الاقوامی ادارے میں نگران شعبے کے سربراہ فریڈی برے کا کہنا ہے کہ خیال یہی ہے کہ 2040 تک سرطان کے نئے کیسز کی تعداد 2 کروڑ 39 لاکھ تک پہنچ جائے گی جبکہ اموات کی تعداد ایک کروڑ 63 لاکھ ہو جائے گی۔

فریڈی برے کا کہنا ہے کہ سرطان کے کیسز کی تعداد میں 2040 تک سب سے زیادہ اضافہ ان ملکوں میں ہو گا جہاں سماجی اقتصادی ترقی کی شرح کم ترین سطح پر ہے۔ ان میں سے کچھ نیم سہارہ افریقہ، کچھ جنوبی امریکہ اور کچھ جنوبی ایشا میں ہونگے۔ سرطان کے کیسز میں اضافے کا سامنا کرنے والے ملکوں میں اس وقت بھی اس سے نمٹنے کے لئے مناسب وسائل اور ذرائع بھی نہیں ہیں

عالمی ادارہ صحت کے غیر متعدی امراض کے شعبے کے ڈائریکٹر ایتین کروگ کہتے ہیں کہ لوگوں کی موت کا باعث بننے والے سرطان کے کلیدی خطرات میں سے بیشتر کو روکا جا سکتا ہے اور یہ تمباکو اور شراب نوشی کے استعمال میں کمی ۔ ورزش میں اضافے اور خوراک کو بہتر بنانے کے ذریعے ممکن ہے۔

کروگ کا کہنا ہے کہ ہم مختلف نوعیت کے سرطان کی روک تھام کے لئے اپنے مدافعتی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں جیسے سروائکل کینسر اور جگر کا کینسر۔ لیکن جن لوگوں کو سرطان ہو چکا ہے ان کے لئے بھی اب اس کی نوعیت سزائے موت جیسی نہیں ہونا چاہیے۔

کروگ کا کہنا ہے کہ سرطان میں مبتلا ہونے والے افراد کی شرح زندگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے صحت کی سہولتوں میں بہتری، جلد تشخیص اور مناب علاج معالجے تک رسائی ممکن بنانا ضروری ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قریب المرگ بیماروں کی تکلیف میں کمی کے لئے انتہائی نگہداشت ضروری ہے

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top