خیبر پختونخواہ کا امپیکٹ چیلنج پروگرام

Untitled-01636-1.jpg

خیبر پختونخوا امپیکٹ چیلنج پروگرام کی نورین شاد

خیبر پختونخواہ کی حکومت نے حال ہی میں ’کے پی کے امپیکٹ چیلنج‘ کے نام سے دیہی اور پس ماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے کے لیے گرانٹس کی فراہمی کا ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام سے مستفید ہونے والے دیہی نوجوان میں نورین شاد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے اس پروگرام کے متعلق گفتگو کی۔

نورین شاد نے بتایا کہ یہ پروگرام خیبر پختونخواہ کی حکومت اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمینٹ اینڈ سائنسز ’لمز‘ کی شراکت داری سے شروع کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد کاروباری ذہن رکھنے والے پس ماندہ طبقے کے ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنا بزنس شروع کرنے کے لیے تربیت اور فنڈز فراہم کرنا اور انہیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں اور خواتین کو بزنس کے اپنے کاروباری آئیڈیاز پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور جن نوجوانوں اور خواتین کے آئیڈیاز کو منظور کیا گیا انہیں ان کے پراجیکٹس کی مطابقت سے فنڈز فراہم کیے گئے۔

اپنے بزنس پراجیکٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے نورین نے کہا کہ انہوں نے پشاور میں سلائی کے ایک پراجیکٹ کے قیام کے لیے گرانٹ کی درخواست کی تھی جس سے وہ خیبر پختونخواہ میں سلائی کا ایک مرکز قائم کریں گی جو صوبے بھر کے اسکولوں، اسپتالوں یا اداروں کی یونیفارمز اور ملبوسات کی سلائی کے ذریعے دیہی خواتین روزگار مہیا کرے گا۔

امپیکٹ چیلنج پورگرام کے تحت اپنا پراجیکٹ شروع کرنے والی خیبرپختونخوا کی نورین شاد

نورین شاد نے بتایا کہ اس وقت خیبر پختونخواہ کے اداروں کو اپنی یونیفارمز دوسرے صوبوں میں قائم گارمنٹس کے مراکز سے سلوانی پڑتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے آئیڈیا کو منظور کیا گیا اور اسے دوسرے نوجوانوں کے منظورشدہ آئیڈیاز کے ساتھ گرانٹ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ انہیں اس پروگرام کے تحت اب تک 13 لاکھ روپے کی گرانٹ مل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر رہی ہیں، جس میں سب سے زیادہ اخراجات مشینوں کی خرید پر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پراجیکٹ کو پشاور سے شروع کر رہی ہیں۔ جس کے بعد وہ اس کی شاخیں صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی قائم کریں گی۔

نورین شاد، جو ایبٹ آباد سے تعلق رکھتی ہیں اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد مختلف این جی اوز کے ساتھ کام کرنے کا عملی تجربہ بھی رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے پراجیکٹ پر کام اس عزم کے ساتھ شروع کر رہی ہیں کہ اس کی مدد سے نہ صرف وہ اپنے لیے بہتر روزگار پیدا کریں گی بلکہ وہ خیبر پختونخواہ کی دوسری خواتین کو بھی معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوظ بنانے میں ایک موثر کردار ادا کریں گی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top