موٹاپے کا شکار نور الحسن انتقال کر گیا

Untitled-01379.jpg

فائل فوٹو

موٹاپے کا شکار 60 سالہ نور الحسن لاہور کے شالامار اسپتال میں انتقال کر گیا، نور الحسن کی چند روز قبل سرجری کی گئی تھی اور وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے۔ نور الحسن کا وزن 320 کلو گرام تھا اور ان کا تعلق صادق آباد سے تھا۔

آرمی چیف کی ہدایت پر نور الحسن کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں چند روز قبل ڈاکٹرز نے ان کی لیپرو سکوپی کر کے جسم سے اضافی چربی نکالی تھی۔ سرجری کے بعد ڈاکٹرز پر امید تھے کہ نور الحسن کا وزن بتدریج کم ہو جائے گا اور وہ دو سال میں 200 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شالامار اسپتال لاہور کے ’لیپروسکوپک سرجن‘ اور نورالحسن کے معالج ڈاکٹر معاذالحسن نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نورالحسن کو پیر کی دوپہر انتہائی نگہداشت وارڈ سے عام وارڈ میں منتقل کرنا تھا۔

انھوں نے کہا کہ “اِن کے تمام ٹیسٹ ٹھیک تھے، اِن کے لواحقین مطمئن تھے۔ اتوار کی رات آٹھ بجے کے قریب اِن کی ایک ٹیوب میں ’کلوٹ‘ آیا تھا۔ لیکن وہ ٹیوب ہم نے تبدیل کر دی تھی۔ اُس کے بعد یہ بالکل ٹھیک تھے”۔

ڈاکٹر معاز نے نور الحسن کی سرجری کو کامیاب قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر معاذالحسن کے مطابق، ایسے مریضوں کا آپریشن سے پہلے اور آپریشن کے بعد بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر معاذ بتاتے ہیں کہ موٹاپے کے شکار افراد کا وزن کم کرنے میں صرف آپریشن سے کچھ نہیں ہوتا۔ آپریشن تو اِن کا سوا گھنٹے میں ہو گیا جس کے بعد انہوں نے باتیں بھی کیں۔

انھوں نے بتایا کہ “ہم نے اِن کے معدے کے سائز کو چھوٹا کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ اِنکا وزن کم ہونا شروع ہو جاتا۔ مجھے آج صبح سوا آٹھ بجے فون آیا کہ نورالحسن کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔ میں اسپتال پہنچا تو یہ انتقال کر چکے تھے۔ نوارالحسن کی موت کے بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کیسے ہوئی۔ ہو سکتا ہے کہ اِنہیں دل کا دورہ پڑا ہو یا کوئی کلاٹ آیا ہے۔ یہ سب پوسٹ مارٹم میں پتا چل جاتا، لیکن نورالحسن کے لواحقین اِنکا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے تھے”۔

نورالحسن کی بیوی نے وائس آف امریکہ کو صرف اتنا بتایا کہ آپریشن کے بعد اُن کے شوہر کے ہاتھ پاؤں بالکل صحیح تھے اور وہ بہت خوش تھی کہ اُنکا وزن کم ہو گیا ہے۔ نورالحسن کے بیٹے محمد اسلم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اچانک یہ کیا ہو گیا اُنہیں کچھ پتا نہیں۔ محمد اسلم نے بتایا کہ اُنہیں کسی پر کوئی شک نہیں۔ ڈاکٹروں نے بہت تعاون کیا اور اُن سے علاج کا ایک روپیہ نہیں لیا۔

انہوں نے اپنے والد کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا۔ وہ اپنے والد کو لے کر رحیم یار خان جا رہے ہیں اور وہیں اُن کی تدفین ہوگی۔

“ابھی ہمارا دو اڑھائی گھنٹے کا سفر باقی ہے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ میت کی جلد از جلد تدفین کر دی جائے، کیونکہ گرمی کے باعث میرے ابو کی میت پھول رہی ہے۔ آج بارہ بجے کا ٹائم تھا اِنہیں وینٹی لیٹر سے نکالنے کا۔ لیکن صبح ہمیں آٹھ بجے پتا چلا کہ ابو کی ہارٹ اٹیک سے ڈیتھ ہو گئی ہے”۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نورالحسن کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی ہے۔

نورالحسن جو پیشے کے اعتبار سے ٹرک ڈرائیور تھے اپنے زیادہ وزن کی وجہ سے ہل جل نہیں سکتے تھے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top