وینا ملک اور ثانیہ مرزا بھی لفظی جنگ کی لپیٹ میں آ گئیں

Untitled-01324.jpg

وینا ملک نے ٹوئٹ میں ثانیہ مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، مجھے آپ کے بچے کی فکر ہے۔ آپ خود ایتھیلیٹ ہیں اور جانتی ہیں کہ جنک فوڈ اور شیشہ بار، ایتھیلیٹ اور کھلاڑیوں کی صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ 

ورلڈ کپ میں پاکستان اوربھارت کے درمیان میچ کی گرما گرمی ابھی کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ دونوں ملکوں کی دو اور سلیبریٹیز کے درمیان بھی سوشل میڈیا پر جھڑنے والی لفظی جنگ سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ارکان کی آف دی فیلڈ سرگرمیوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو بھارت سے شکست کا غصہ لوگوں نے کھلاڑیوں پر تنقید کر کے نکالا، خصوصاً وہ ویڈیو جس میں شعیب ملک اپنی اہلیہ ثانیہ مرزا کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ کے شیشہ بار میں نظر آئے۔

بس پھر کیا تھا سب ہی نے اپنے اپنے انداز میں بھڑاس نکالی جن میں پاکستانی ماڈل اور اداکارہ وینا ملک بھی شامل تھیں۔

وینا ملک نے ٹوئٹ میں ثانیہ مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، مجھے آپ کے بچے کی فکر ہے۔ آپ خود ایتھیلیٹ ہیں اور جانتی ہیں کہ جنک فوڈ اور شیشہ بار، ایتھیلیٹ اور کھلاڑیوں کی صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ آپ ماں ہیں اور ایتھیلیٹ بھی تو یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں۔

وینا کا ٹوئٹ ثانیہ کو کچھ زیادہ بھایا نہیں۔ ثانیہ نےبھی جوابی وار کرتے ہوئے کہا، وینا میں اپنے بیٹے کو شیشہ بار لے کر نہیں گئی۔ مجھے اپنے بچے کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ آپ کو یا دنیا کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری بات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی نہ ماں ہوں، نہ ماہر غذائیت اورنہ ہی پرنسپل جو دیکھوں کہ وہ کب سوتے، کب جاگتے اور کیا کھاتے ہیں۔

بات یہیں تک رہتی تو غنیمت تھا مگر ثانیہ مرزا نے وینا ملک کی ماضی کی ایک بولڈ تصویر کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کر ڈالا جس میں ثانیہ نے کہا کہ مجھے فکر ہے کہ اگر آپ کے بچے یہ دیکھ لیں تو ان کے لیے کتنا خطرناک ہو گا۔

ثانیہ مرزا کا یہ ٹوئٹ سوشل میڈیا یوزر کے درمیان بحث کا سبب بنا گیا۔ کچھ لوگوں نے ثانیہ پر وینا ملک کی ماضی کی تصویر شیئر کر کے طنز کو تنقید کا نشانہ بنایا تو کچھ نے تعریف کی۔

بھارت کی معروف صحافی برکھا دت بھی ثانیہ ملک کو شاباش دینے والوں میں شامل رہیں۔ ثانیہ مرزا نے تنقید کے بعد ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top