پاکستان میں مالی استحکام شروع ہو گیا ہے، گورنر سٹیٹ بینک

Untitled-01317.jpg

گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر پاکستان کی معاشی صورت حال کے متعلق پرپس کانفرنس کر رہے ہیں۔ 17 جون 2019

پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں کافی حد تک مالیاتی استحکام آ چکا ہے۔ بیرونی خسارے میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ حکومت کی پہلی ترجیح مالیاتی خسارے پر قابو پانا ہے۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد کراچی میں پہلی پریس بریفنگ میں تقریر کرتے ہوئے رضا باقر نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم، ملک کی اقتصادی حالت سنھبالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے بیرونی خسارے میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں موجود عدم استحکام کی اہم وجہ تجارتی اور مالیاتی خسارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

رضا باقر کے مطابق معاشی اصلاحات سے مڈل کلاس اور غریب طبقے کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے سے حالات کچھ حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ اس وقت معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم استحکام ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ملک کا معاشی مستقبل بہت تابناک ہے۔ اسٹیٹ بینک جب حکومت کو قرضہ دیتا ہے اس سے مہنگائی بڑھتی اور روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ اس بجٹ کے بعد حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرضے نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور رواں سال حکومت مرکزی بینک سے کوئی قرضہ لے رہی۔

رضا باقر نے بتایا کہ ملک میں شرح تبادلہ کافی عرصے سے فکس تھی جس سے ہمارا بیرونی خسارہ بڑھا ہے۔ تاہم ڈالر کا فری فلوٹ ایکسچینج ریٹ بھی ہماری پالیسی کا حصہ نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری پالیسی مارکیٹ بیسڈ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدات میں بھی کمی آتی ہے۔ شرح سود کا تعین قیمتوں میں اضافے یا کمی پر ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ اس سے مالیاتی خسارے میں کمی اور مالیاتی استحکام حاصل ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس 3 جولائی کو اجلاس ہو گا جس میں پاکستان کو قرض دینے کے لیے بورڈ کی میٹنگ ہو گی۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے مالی سال کا خسارہ 19.8 ارب ڈالر تھا، جو رواں مالی سال میں اب تک سات ارب ڈالر کم ہو کر 13 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ جب کہ گزشتہ دس ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد کمی آ چکی ہے۔

ملک کے زیادہ تر معاشی اعشاریے منفی رحجان ظاہر کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے جن میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ، برآمدات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں فوری کمی شامل ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے خفیہ اثاثے ظاہر کرنے اور خود کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے 30 جو ن تک کی مہلت دے رکھی ہے جس کے بعد ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top