‘سی پیک سے پونے تین لاکھ افراد کو روزگار ملا ہے’

Untitled-01281.jpg

فائل فوٹو

پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2018-2019ء کے دوران ملک کی معاشی ترقی کی رفتار 3.3 فی صد رہی جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح ہے۔

پاکستان کی آبادی 21 کروڑ سے زائد ہے جس میں سالانہ 2.4 فی صد اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اقتصادی ترقی میں سست رفتاری کے سبب وسائل کم ہونے سے غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

زیادہ آبادی اور محدود وسائل کے سبب ملک میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ذیل میں ہم نے صحت، تعلیم، افرادی قوت اور روزگار جیسے اہم شعبوں کے سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالی ہے۔

صحت

پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے اپنے جی ڈی پی کا ایک فی صد سے بھی کم صحت کے شعبے پر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔

مالی سال 2018-2019ء کے دوران صحت کے شعبے میں تقریباً 204 ارب روپے خرچ ہوں گے جو قومی آمدن کا محض 0.53 فی صد ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں شامل 189 ممالک کی فہرست میں 150 ویں نمبر پر ہے۔

پاکستانیوں کی اوسط عمر 66 سال چھ مہینے ہے۔

ملک میں ہر ایک ہزار حاملہ خواتین میں سے تقریباً 178 خواتین زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے سبب انتقال کر جاتیں ہیں جب کہ نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات بھی بہت زیادہ ہے۔

ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 220829 ہے اور ہر 963 افراد کے علاج معالجے کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔

دوسری جانب اسپتالوں کی کمی ہے اور ملک بھر میں 1608 افراد کے لیے اسپتال میں ایک بستر ہے۔

پاکستان میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے اور اکنامک سروے کے مطابق آبادی میں غذائیت کی کمی کے سبب ہونے والا نقصان جی ڈی پی کے تین فی صد کے برابر ہے۔

تعلیم

پاکستان میں آئندہ مالی سال کے لیے حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے جی ڈی پی کی 2.4 فی صد رقم مختص کی ہے۔

اکنامک سروے کے مطابق ملک میں خواندگی کی مجموعی شرح 62.3 فی صد ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ 6 سے 16 سال کی عمر کے بچوں میں سے 17 فی صد اسکول نہیں جاتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے اندراج کے لیے حکومت کتابوں کی مفت فراہمی سمیت دیگر اقدامات کر رہی ہے۔

آبادی اور بے روزگاری

پاکستان کی آبادی سالانہ 2.4 فی صد کی شرح بڑھ رہی ہے اور ملک کی آبادی میں محض 34 فی صد افراد کو فیملی پلاننگ کی سہولتیں دستیاب ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے عوام میں شرحِ پیدائش یا بچے پیدا کرنے کی شرح 3.6 فی صد ہے جو خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔

اتنی زیادہ آبادی کے لیے ملازمت کے مواقعوں کا حصول کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5.8 فی صد ہے۔

گو کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ 2018-2019ء میں بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے لیکن اس بارے میں تازہ اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں سب زیادہ بے روزگار 25 سے 29 سال کی عمر کے افراد ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت اب تک 75 ہزار افراد کو براہِ راست اور دو لاکھ سے زائد افراد کو بالواسطہ ملازمت ملی ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں راہداری کے منصوبے سے مزید سات لاکھ ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستانیوں کی بڑی افرادی قوت خلیجی ممالک میں کام کرتی ہے۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد حال ہی میں وطن واپس آئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2018ء میں تین لاکھ 82 ہزار پاکستانی محنت کش بیرونِ ملک ملازمت کر رہے ہیں جب کہ 2015ء میں یہ تعداد ساڑھے سات لاکھ سے زائد تھی۔

اس دوران بہت بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں ملازمت چھوڑ کر واپس آئے ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top