عالمی یوم ماحولیات: لمبی زندگی پانے کے لیے فضائی آلودگی کا خاتمہ ضروری

World-Environment-Day.jpg

آج عالمی یوم ماحولیات پر دنیا بھر سے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کرنے والے کارکنان آواز اٹھا رہے ہیں، کیوں کہ محققین کےمطابق ہر سال غریب ممالک میں لاکھوں لوگ آلودگی کے برے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔

‘ہم چلتے رہیں گے’ یہ گانا ایک ایسے جاپانی قصبے سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کامیابی سے لڑتا رہا۔

اس گانے کو گاتے ہوئے فنکار اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کرتے رہے۔ وہ اپنے فن کے ذریعے امید کرتے ہیں کہ ماحول کو درپیش ایسے خطرے کے بارے میں شعور پیدا کر سکیں گے، جس سے لاکھوں لوگ ہر سال متاثر ہوتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے اس کام سے اس خطرے کے خلاف ایکشن لیا جائے گا جو دنیا کی خوبصورتی کو بچا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، فضائی آلودگی انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے ہر برس تقریباً 70 لاکھ افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ لاکھوں مزید افراد فضائی آلودگی سے ہر سال متاثر ہوتے ہیں اور دمے، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق، ہر سال آلودہ فضا میں سانس لینے سے عالمی طور پر پانچ کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے معاشی کمیشن کی یورپ کے لئے ایگزیکٹو سیکریٹری، آلگا الگے یروہ نے فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی نقصان کو ’’شدید‘‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایجنسی اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1979 میں یورپ اور شمالی امریکہ کے 51 ممالک نے یونیسیف کے کنوینشن پر دستخط کئے تھے جسے فضائی کنوینشن کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘‘1990 کے بعد سے گندھک کے تیزاب کے اخراج میں تیس سے اسی فیصد کی کمی یورپ میں؛ جب کہ شمالی امریکہ میں اس میں تیس سے چالیس فیصد کمی آئی ہے۔ یورپ کے لوگ اس فضائی کنوینشن کی بدولت اب اوسطاً بارہ مہینے زیادہ جیتے ہیں۔’’

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے ہی اس مسئلے کا حل ہیں اور دیگر خطے بھی ایسے معاہدے کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top