ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب، سوشل میڈیا پر ملالہ اور سرفراز کے چرچے

Untitled-01.jpg

کرکٹ ورلڈ کپ کا رنگارنگ میلہ لندن میں سج گیا ہے۔ شاہی محل بکنگھم پیلس کے باہر افتتاحی تقریب ہوئی اور اسٹیج سجا، جسے اوپننگ پارٹی کا نام دیا گیا۔ قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والے ہزاورں افراد کو یہ تاریخی تقریب دیکھنے اور اس میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔

دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے شائقین نے بھی روایتی جوش و خروش سے اپنی ٹیموں کے کپتانوں کا استقبال کیا تو دوسری طرف تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ملالہ یوسفزئی کی چھوٹی سی تقریر اور پاکستانی کپتان سرفراز احمد کا لباس سوشل میڈیا پر چھا گیا۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کرکٹر اظہر علی کے ساتھ تقریب میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ تقریب میں ایک مقابلے کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں 60 سکینڈز میں زیادہ سے زیادہ رنز اسکور کرنا تھے۔ یہ مقابلہ تو انگلینڈ کی جوڑی نے سب سے زیادہ اسکور کر کے جیت لیا۔ لیکن مقابلے کے بعد ملالہ یوسفزئی کے چھوٹے سے انٹرویو کے سوشل میڈیا پر چرچے ہونے لگے۔

ملالہ نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کا آغاز کرتے ہوئے پاکستانیوں کو تسلی دی کہ پاکستان اس مقابلے میں ساتویں نمبر پر آیا۔ لیکن، کوئی بات نہیں کیونکہ انڈیا سب سے آخری نمبر پر آیا ہے۔

ملالہ نے انیل کمبلے اور فرحان اختر پر مشتمل بھارتی جوڑی کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے کرکٹ کی شوقین ہیں اور بھائی کے ساتھ کرکٹ کھیلتی رہی ہیں جس میں لڑائیاں بھی ہوتی تھیں۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ خواتین کا کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں میں حصہ لینا حوصلہ افزا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ سرفراز احمد کیوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب اور ملکہ برطانیہ کوئن الزبتھ سے ملاقات میں سرفراز احمد نے سوٹ کی بجائے سفید شلوار قمیض اور سبز رنگ کا کوٹ پہنا جو پاکستانی پرچم کا رنگ ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سرفراز احمد کے اس اقدام کو بہت سراہا۔ کچھ لوگوں نے سرفراز پر تنقید کی تو اس کا جواب بھی سوشل میڈیا صارفین نے ہی دیا۔

ایک سوشل میڈیا یوزر کا کہنا تھا کہ لوگوں کو تو بس تنقید کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ سرفراز نے زبردست کام کیا۔

معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیتے یا نہیں۔ تم نے قومی لباس پہن کر دل جیت لیا، بھائی۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top