انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو 104 رنز سے ہرا دیا

Untitled-1.jpg

انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان اوول میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ 2019 کا افتتاحی میچ انگلینڈ نے جنوبی افریقہ سے 104 رنز سے جیت لیا ہے۔

جنوبی افریقہ کو میچ جیتنے کے لئے 312 رنز کا ہدف ملا تھا۔ لیکن اس کے بیٹسمین کوشش کے باوجود ہدف کو پانے میں ناکام رہے اور یوں جنوبی افریقہ 104 رنز کے بڑے فرق سے یہ میچ ہار گیا۔

جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 39 اعشاریہ پانچ اوورز میں صرف 207 رنز بنا سکی۔

انگلینڈ کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی کامیابی اس وقت ملی جب مارکرم صرف گیارہ رنز بنا کر آرچر کی بال پر کیچ آٓٹ ہوگئے۔ اس وقت تک ٹیم کا مجموعی اسکور 36 رنز تھا جبکہ ہاشم زخمی ہونے کے باعث پویلین لوٹ چکے تھے۔

دوسری وکٹ کی صورت میں جنوبی افریقہ کو نقصان ٹیم کے مجموعی اسکور 44 رنز پر ہوا جب فاف ڈوپلیسی پانچ رنز پر آرچر کے ہاتھوں ہی کیچ ہوئے۔

تیسری وکٹ ڈی کوک کی گری جو جنوبی افریقہ کے لئے ایک بڑا نقصان کہی جا سکتی ہے، کیوں کہ ڈی کوک بہت تیزی سے اسکور کو بڑھا رہے تھے۔ انہوں نے 68 رنز بنائے جو اس وقت تک سب سے بڑا اسکور تھا۔ ان کی وکٹ پلنکیٹ نے لی۔

جے پی ڈومنی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف 8رنز کے مجموعی اسکور پر معین علی کی بال پر کیچ ہوگئے۔ یوں جنوبی افریقہ کو چوتھی وکٹ کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

پانچویں وکٹ ڈیوائن پریٹورئیس کی گری جو صرف ایک رن کا اضافہ کرکے رن آؤٹ ہوگئے۔

چھٹی وکٹ کے روپ میں وینڈر ڈوسن آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 50رنز بنائے اور آرچر کو اپنی وکٹ دی۔

ساتویں آؤٹ ہونے والی کھلاڑی اینڈائل فلکوایو تھے۔ وہ 24 رنز بنا کر عادل راشد کی بال پر آؤٹ ہوئے۔

38ویں اوور کی پہلی گیند پر ہاشم وکٹ کے پیچھے کیچ ہوگئے۔ وہ صرف 23 رنز ہی بناسکے تھے۔ ان کی وکٹ پلنکیٹ نے لی۔

نویں وکٹ کے لئے بھی انگلینڈ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا، کیوں کہ ربادا گیارہ رنز پر ہی آؤٹ ہوگئے۔

آخری وکٹ کے روپ میں عمران طاہر میدان میں آئے لیکن بغیر کوئی رنز بنائے ہی انہیں پویلین لوٹنا پڑا جبکہ لنگی انگیدی ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف چھ بالرز استعمال کئے جن میں سے آرچر نے تین، پلنکیٹ اور اسٹروکس نے دو دو جبکہ عادل راشد اور معین علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کیا۔

پوائنٹ ٹیبل
انگلینڈ پہلا میچ جیتنے کے ساتھ ہی پوائنٹ ٹیبل پر دو پوائٹنس کے ساتھ پہلے نمبر آگیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کا کوئی پوائنٹ نہیں ہے۔

انگلینڈ 8 وکٹس پر 311 رنز بناکر آؤٹ 
اس سے قبل انگلینڈ مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹس کے نقصان پر 311 رنز بناکر آؤٹ ہوا اس طرح جنوبی افریقہ کو یہ میچ جیتنے کے لئے 312 رنز کا ہدف ملا۔

انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ 89 رنز اسٹروکس نے بنائے جبکہ لیام پلنکیٹ اور آرچر بالترتیب 9 اور 7 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے انگلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی جس نے پہلے پانچ اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 29 رنز بنائے تاہم انگلینڈ کو میچ کے پہلے اوور کی دوسری ہی بال پر اس وقت پہلا نقصان اٹھانا پڑا جب عمران طاہر نے جونی بیرسٹو کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کر دیا۔

میچ کے آغاز پر جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈپلوسی نے ٹاس جیتا اور انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

عمران طاہر کا بالنگ ایکشن

انگلش ٹیم کی جانب سے جیسن رائے اور جونی برسٹو نے اننگز کا آغاز کیا۔ لیکن پہلے اوور کی دوسری ہی بال پر عمران طاہر برسٹو کی وکٹ لے اڑے۔

دس اوور تک انگلینڈ نے مجموعی طور پر 60 رنز بنا لیے تھے۔ جیسن 28 اور روٹ نے 31 رنز اسکور کئے تھے۔

پندرہ اوور تک جنوبی افریقہ مزید کوئی وکٹ نہیں لے سکا اور یوں انگلینڈ کے 15 اوورز کے اختتام تک ایک وکٹ کے نقصان پر 87 رنز ہوگئے۔

جیسن رائے اور جوئے روٹ اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کرتے اور چوکے پہ چوکا لگاتے رہے۔ اس طرح 17 اوور کے اختتام کے ساتھ ہی انگلینڈ کی ٹیم 100 کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

رنز کی اس سنچری میں رائے کی نصف سنچری اور روٹ کے 49 رنز شامل تھے۔ لیکن جیسے ہی اسکور 107 ہوا جیسن 54 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

ابھی اسکور میں چار ہی رنز کا اضافہ ہوا تھا کہ روٹ بھی 51رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی جگہ مورگن اور اسٹروکس نے لی جبکہ اس وقت تک 20 اوور کا کھیل مکمل ہوچکا تھا۔

اس دوران مورگن نے بھی اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور اسٹروکس نے بھی کھل کر کھیلا جس کی بدولت 30 اوورز میں انگلینڈ تین وکٹوں کے نقصان پر 170 بنانے میں کامیاب ہوگیا۔

اس اسکور تک مورگن 40 اور اسٹروکس22 رنز بنا چکے تھے جبکہ 33 اوورز کا کھیل مکمل ہوا تو انگلینڈ نے تین وکٹ کے نقصان پر 187 رنز بنا لیے تھے جس میں مورگن کے 50 اور اسٹروکس کے 30 رنز شامل تھے۔

جنوبی افریقہ کے بالرز کو بہت دیر تک تھکنے کے بعد بلاخر 217 رنز کے مجموعی اسکور پر چوتھی وکٹ مل ہی گئی۔

مورگن جو اب تک 57 رنز بنا چکے تھے عمران طاہر نے انہیں کیچ آؤٹ کرا دیا۔ مورگن کی جگہ بٹلر کھیلنے آئے جبکہ اسٹروکس اب تک 53 رنز بنا چکے تھے۔

چالیس اوورز کے اختتام تک انگلینڈ کا مجموعی اسکور 235 رنز ہو چکا تھا جس میں بٹلر کے 13 اور اسٹروکس کے 55 رنز شامل تھے۔

اکتالیسویں اوور میں انگلینڈ کا اسکور 247 رنز ہوا تو بٹلر لنگی انگیدی کی بال پر 18 رنز کے اسکور پر آؤٹ ہوگئے اور یوں انگلینڈ کو پانچویں وکٹ سے ہاتھ دھونا پڑے۔

بٹلر کے آؤٹ ہونے کے بعد معین علی کریز پر پہنچے۔ 42 ویں اوور تک ان کا اسکور ایک رن تھا جبکہ اسٹروکٹس 64 رنز پر کھیل رہے تھے۔

لنگی انگیدی ہی 44 اوورز کی آخری بال پر معین الدین کو صرف تین رنز پر آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس وقت تک مجموعی اسکور 260 رنز تھا جبکہ اسٹروکس اس وقت تک 72 رنز بنا چکے تھے۔

معین علی کی جگہ کرس ووکس نے لی جبکہ اسٹروکس ان کا ساتھ دینے کے لئے کریز پر پہلے سے موجود تھے۔

انگلینڈ کی ساتویں وکٹ ایک آسان سے کیچ کی صورت میں ملی۔ ووکس صرف 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی جہگ لیام پلنکیٹ نے لی۔

آٹھویں وکٹ اسٹروکس کی گری جنہوں نے سب سے زیادہ 89رنز اسکور کئے۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف سات بالرز استعمال کئے گئے عمران طاہر نے دو ،انگیدی نے تین، ربادا نے دو جبکہ فلکوایو نے ایک وکٹ لی۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم
فاف ڈوپلیسی، ایڈن مرکرام، کوئنٹن ڈی کاک، ہاشم آملا،ہی وینڈر ڈوسن،جے پی ڈومنی،ڈیوائن پریٹورئیس، اینڈائل فلکوایو، کاگیسو ربادا، لنگی انگیدی، عمران طاہر۔

انگلینڈ کی ٹیم
جیسن روئے، جونی بیرسٹو،جاس بٹلر،اوئن مورگن ،جوئے روٹ، بین اسٹوکس، معین علی، کرس ووکس، عادل راشد، جوفرا آرچر، لیام پلنکیٹ۔

کچھ ورلڈ کپ کے بارے میں

ٹورنامنٹ میں کل دس ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں افغانستان، آسٹریلیا، پاکستان، بھارت، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلادیش شامل ہیں۔

اس بار کے فورمیٹ کے تحت ٹیموں کو گروپس میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر ٹیم کو دوسری ٹیم کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ یوں کل 48میچز کھیلے جائیں گے۔

سیمی فائنل اور فائنل میں جانے تک ہر ٹیم کو مخالف ٹیموں سے نو، نو میچز کھیلنا ہوں گے۔

سیمی فائنل چار اور فائنل دو ٹیموں کے درمیان 14جولائی کو کھیلا جائے گا۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top