ورلڈ کپ کے بعد کون سے کھلاڑی ون ڈے کرکٹ چھوڑ سکتے ہیں

After-W-Cup-players-leave-.jpg

ورلڈکپ 2019 میں شریک دس ٹیموں کے اکثر کرکٹرز ابھی اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ہیں اور وہ اس ایونٹ کے بعد بھی وہ طویل عرصے تک کرکٹ کے میدانوں میں نظر آتے رہیں گے۔ تاہم بعض کھلاڑیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ورلڈ کپ 2019 کے بعد وہ ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔

کرس گیل

ویسٹ انڈیز کے جارح مزاج بیٹسمین کرس گیل تقریباً سات ماہ کے طویل عرصے بعد رواں سال فروری میں ویسٹ انڈیز کی ون ڈے ٹیم میں واپس آئے ہیں۔

کرس گیل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ورلڈ کپ کے بعد وہ ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔

کرس گیل کے مداحوں کے لیے یہ فیصلہ کافی حیران کن ہے کیونکہ اپنی واپسی کے بعد رینکنگ میں سرفہرست انگلینڈ کے خلاف صرف چار اننگز میں انہوں نے 424 رنز بنائے تھے جس میں دو سنچریاں اور نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آخری ورلڈ کپ میں ایسی ہی کارکردگی دکھا کر ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو 1979ء کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ چیمپئن بنوا پاتے ہیں یا نہیں۔

جے پی ڈومینی

ساؤتھ افریقہ کے جے پی ڈومینی بھی اُن کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں نظر نہیں آئیں گے۔ تاہم وہ ٹی 20 میچز میں شرکت کرتے رہیں گے۔

جے پی ڈومینی مارچ میں انجری کا شکار ہو کر کئی ماہ ٹیم سے باہر رہے جس کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ 50 اوورز کی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ پھر یہ خبر آئی کہ وہ اپنے آبائی شہر کیپ ٹاؤن میں اپنا آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیل رہے ہیں۔

جے پی ڈومینی نے اگست 2004ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں اپنے ون ڈے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران کئی بار انجریز کا شکار ہوئے۔ اس کے باوجود وہ 194 میچز میں 37 اعشاریہ 38 کی اوسط سے 5 ہزار 47 رنز کے ساتھ جنوبی افریقہ کے ٹاپ ٹین اسکوررز میں شامل ہیں۔

عمران طاہر

بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کے بعد اپنے جوشیلے انداز میں جشن کی وجہ سے شہرت رکھنے والے جنوبی افریقہ کے لیگ اسپنر عمران طاہر اس ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں اپنا جوش و خروش دکھاتے نظر نہیں آئیں گے۔

اپنے ساتھی کرکٹر جے پی ڈومینی کی طرح عمران طاہر نے بھی ٹی 20 انٹرنیشنل جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس میں وہ خود کو زیادہ آرام دہ اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔

فروری 2011ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف نئی دہلی میں ون ڈے کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران طاہر اب تک 98 میچوں میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ جن میں انہوں نے 24 اعشاریہ 21 کی اوسط سے مجموعی طور پر 162 وکٹیں حاصل کیں ہیں۔ اُن کی بہترین بولنگ 45 رنز کے عوض 7 وکٹیں ہے۔

شعیب ملک

شعیب ملک کا شمار ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے بہترین آل راؤنڈرز میں کیا جاتا ہے۔ شعیب ملک نے گزشتہ برس جون میں دورہ زمبابوے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ورلڈ کپ اُن کا آخری ٹورنامنٹ ہو گا۔

اکتوبر 1999 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ میں اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے شعیب ملک اب تک 282 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

وہ 7 ہزار 481 رنز کے ساتھ پاکستان کے پانچویں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ اُن کا بیٹنگ اوسط 35 سے زائد ہے جب کہ 9 سنچریاں اور 44 نصف سنچریاں بھی اُن کے کھاتے میں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ 4 اعشاریہ 65 کے اکانومی ریٹ سے 156 وکٹیں اور 96 کیچ بھی پکڑ چکے ہیں۔

ڈیل اسٹین

ڈیل اسٹین کا شمار جنوبی افریقہ کے عظیم بولرز میں ہوتا ہے، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں انجریز کے باعث ان کی کارکردگی قابل رشک نہیں رہی۔

گزشتہ سال جولائی میں ڈیل اسٹین نے محدود اوور کی کرکٹ چھوڑنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم انہیں اس سے متعلق حتمی فیصلہ کرنا ہے۔

جنوبی افریقہ کو 2015ء کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کیریئر کے آخری ورلڈ کپ میں ڈیل اسٹین اپنی ٹیم کے لیے کس حد تک سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top