پی ایس ایل 4 کی ٹیمیں، ڈیرن سیمی کی پہچان ’پشاور زلمی ‘

​پشاور زلمی پاکستان سپرلیگ کی بہترین ٹیموں میں شمار کی جاتی ہے جو تسلسل کے ساتھ عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ سیزن ٹو کی چیمپئن پشاور زلمی کی ایونٹ میں فتوحات کا تناسب 57 اعشاریہ 5 ہے۔

زلمی نے اب تک 34 میچز کھیلے ہیں، 19 جیتے اور 14 میں شکست ہوئی جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔

پی ایس ایل کے دو فائنل کھیلنے والی پشاور زلمی پہلے سیزن میں تیسرے نمبر پر رہی، دوسرے سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہراکر ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ سیزن تھری کے فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ سے شکست کے بعد رنرز اپ رہی۔

پشاور زلمی کے اسپیشلسٹ بیٹسمینوں میں کامران اکمل، مصباح الحق، ڈیوڈ ملن، عمر امین، صہیب مقصود، جمال انوراور نبی گل جبکہ اسپیشلسٹ بولرز میں وہاب ریاض، حسن علی، سمین گل، خالد عثمان، عمید آصف، لیام ڈاؤسن، وقار سلام خیل، کرس جارڈن، ابتسام شیخ اور سمیع اللہ شامل ہیں۔

آل راؤنڈرز میں کپتان ڈیرن سیمی، کائرون پولارڈ اور وین میڈسین ٹیم کا حصہ ہیں۔

پشاور زلمی کی کامیابیوں میں ویسٹ انڈیز کو دومرتبہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 ٹائٹل جتوانے والے ڈیرن سیمی کی قائدانہ صلاحیتوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ پہلے سیزن میں شاہد آفری کے بعد دوسرے سیزن میں ڈیرن سیمی نے پشاور زلمی کی قیادت کے فرائض سنبھالے اور کپتانی کے پہلے ہی سال میں ٹیم کو چیمپئن بنوایا۔

پی ایس ایل 2018ء میں ڈیرن سیمی کا اسٹرائیک ریٹ کسی بھی بیٹسمین سے زیادہ 182اعشاریہ 75 رہا۔

2018ء میں سیزن کے ابتدائی میچوں میں پشاور زلمی کی کارکردگی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پلے آف مرحلے کے لئے بھی کوالیفائی نہیں کرسکے گی تاہم اُس نے لگاتار چار میچ جیت کرفائنل کے لئے کوالیفائی کیا۔

پی ایس ایل کی دومرتبہ کے فاتح ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق بھی اس سال پشاور زلمی کا حصہ ہیں۔ اُنہیں ڈائمنڈ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

ویسٹ انڈین آل راؤنڈر کائرون پولارڈ بھی اس سال پشاور زلمی کی جانب سے کھیل رہے ہیں، پچھلے دوسیزنز میں انہوں نے ملتان سلطانز اور کراچی کنگز کی نمائندگی کی تھی۔

جارح مزاج کائرون پولارڈ مختصرترین فارمیٹ کی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ مجموعی طور 444 میچز کھیل چکے ہیں جبکہ 560 چھکے بھی اُن کے کھاتے میں ہیں۔

لیفٹ آرم فاسٹ بولر وہاب ریاض بھی پشاور زلمی کے اہم پلیئرز میں شامل ہیں۔وہ 6 اعشاریہ 75 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ پی ایس ایل میں اب تک 48 وکٹیں لے چکے ہیں اور پراُمید ہیں کہ مزید دو کھلاڑیوں کا شکار کرکے ایونٹ میں وکٹوں کی نصف سنچری کرنے والے پہلے بولر بن جائیں گے۔

پشاور زلمی کی فتوحات میں وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کا بھی حصہ رہا ہے۔ وہ ایونٹ کے تینوں سیزنز میں 133 اعشاریہ 28 کے اسٹرائیک ریٹ سے مجموعی طور پر 929 رنز بناچکے ہیں، ایونٹ میں ہزار رنز مکمل کرنے والا پہلا بیٹسمین بننے کے لئے اُنہیں صرف 71رنز درکار ہیں۔

ڈیوڈ ملن کا تعلق انگلینڈ سے ہے اور 163 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے کر 4 ہزار ایک سو رنز بنا چکے ہیں، اُن کا اسٹرائیک ریٹ 124 اعشاریہ 45 جبکہ زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 115 ناٹ آؤٹ ہے۔

انگلش بیٹسمین وین میڈسین بھی ٹی20 کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ 99 میچوں میں 131 اعشاریہ 79 سے 2 ہزار 342رنز بناچکے ہیں، اُن کا زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکور 86 ناٹ آؤٹ ہے۔

انگلینڈ ہی کے فاسٹ بولر کرس جارڈن بھی ٹیم کے لئے میچ وننگ پرفارمنس دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، رائٹ آرم میڈیم فاسٹ بولر 142 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں جن میں 8 اعشاریہ 42 اکانومی ریٹ کے ساتھ 144 وکٹیں لی ہیں۔ ان کی بہترین پرفارمنس 11 رنز کے عوض 4 وکٹیں ہے۔

پشاور زلمی کو پاکستان ٹیم کے موجودہ فاسٹ بولر حسن علی سے بھی بڑی توقعات ہیں۔ وہ 78 ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں 7 اعشاریہ 64 اکانومی ریٹ سے 97 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ 20 رنز دے کر پانچ وکٹیں اُن کی بہترین پرفارمنس ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top