کرکٹ ورلڈ کپ، پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان

Pakistan-India-Primeministe.jpg

فائل فوٹو

خلیجی اخبار گلف نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزرا اعظم کی ملاقات ہو سکتی ہے۔

اخبار کے مطابق برطانوی حکام بھی اس ملاقات کے لئے کوشاں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی ختم ہو سکے۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان جون میں برطانیہ جائیں گے جہاں وہ پاکستان ٹیم کے دو میچ دیکھیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہاں موجود ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارت میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو گا اور اگر بی جے پی کامیاب ہوئی تو نریندر مودی وزارت اعظمی کا حلف بھی اٹھا چکے ہوں گے۔

پاکستان اور بھارت نے سرکاری سطح پر متوقع ملاقات سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

گلف نیوز کے مطابق برطانیہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق وہ دونوں ممالک کے وزرا اعظم کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو قریب لانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق انہیں خوشی ہو گی کہ اگر ان کی کاوشوں سے خطے میں حالات معمول پر آ جائیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ کپ کرکٹ میچ 16 جون کو اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں شیڈول ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی۔ فائل فوٹو

کرکٹ ڈپلومیسی اور ضیاالحق

پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ ڈپلومیسی کی اصطلاح کوئی نئی نہیں ہے۔

1987ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے تنازعے پر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے۔

اس دوران پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت میں سیریز کھیلنے کے لئے موجود تھی کہ اچانک پاکستانی صدر میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے تھے۔ اس عمل سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ گئی تھی۔

2011ء کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے اس وقت کے پاکسانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی بھارت کے شہر موہالی گئے تھے۔

پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا

واضح رہے کہ 14 فروری کو بھارتی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فوجی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت نے اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جواب میں پاکستانی فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے درانداز بھارتی طیاروں کو نشانہ بنا کر دو بھارتی طیارے مار گرائے ہیں۔

ان واقعات کے باعث دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے تھے تاہم عالمی مداخلت کے باعث یہ خطرہ ٹل گیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top