ورلڈ کپ کرکٹ: وہ کھلاڑی جن پر قسمت مہربان نہیں ہوئی

Amir-Asif-Rizwan.jpg

محمد رضوان، آصف علی اور محمد عامر

پاکستان ٹیم میں محمد رضوان کی عدم شمولیت حیران کن ہے ، وہ وکٹ کیپر اور کپتان سرفراز احمد کی غیر موجودگی میں وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں لیکن انہیں اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس بیک اپ کے طور پر کوئی وکٹ کیپر نہیں ۔


کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے لئے تمام ٹیمیں اپنے اپنے 15 رکنی اسکواڈز کا اعلان کرچکی ہیں۔ ان اسکواڈز میں جہاں بعض کھلاڑیوں نے حیران کن طور پر جگہ بنائی وہیں کچھ ایسے کھلاڑی بھی ہیں جن پر قسمت مہربان نہیں ہوئی اور وہ اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے باوجود میگا ایونٹ میں شرکت کا اعزاز حاصل نہیں کرسکیں گے۔

محمد رضوان اور نیرو شان ڈک ویلا

محمد رضوان (پاکستان)
پاکستان ٹیم میں محمد رضوان کی عدم شمولیت حیران کن سمجھی جا رہی ہے۔ وہ وکٹ کیپر اور کپتان سرفراز احمد کی غیر موجودگی میں وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ لیکن انہیں اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس بیک اپ کے طور پر کوئی وکٹ کیپر نہیں۔

26 سالہ محمد رضوان پاکستان کی طرف سے 32 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیںجن میں انہوں نے 33 اعشاریہ 57 کی اوسط سے مجموعی طور پر 700رنز بنائے ہیں۔

2017میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد وہ دو سنچریاں بناچکے ہیں جو حال ہی میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں اسکور کی تھیں۔

نیروشان ڈک ویلا (سری لنکا)
جنوبی افریقا کے خلاف سری لنکا کی مایوس کن پرفارمنس کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت تھی لیکن اس کے نتیجے میں بہت سے سینئر کھلاڑی خاص طور پر نیروشان ڈک ویلا ٹیم سے باہر ہوگئے۔

پچھلے 12ماہ کے دوران وکٹ کیپربیٹسمین ڈک ویلا نے 15 اننگز میں 497 رنز بنائے۔وہ 52 ایک روزہ میچوں میں 32اعشاریہ 72 کی اوسط سے ایک ہزار 571 رنز بناچکے ہیں، جس میں دو سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور 116رنز ہے۔

رشبھ پنت (بھارت)
ورلڈکپ کے لئے بھارتی اسکواڈ میں تجربہ کار دنیش کارتھک کو شامل کرنے کی وجہ سے رشبھ پنت کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ سلیکٹرز کا خیال ہے کہ خود کو ثابت کرنے کیلئے 21 سالہ رشبھ پنت کو ابھی بہت سے مواقع ملیں گے۔

رشبھ پنت نے ابھی صرف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں لیکن کسی بھی بولر کے خلاف جارحانہ اسٹروکس نے انہیں ایک باصلاحیت کھلاڑی بنا دیا ہے۔

امباتی رائیڈو اور دنیش چندیمل

امباتی رائیڈو (بھارت)
سات ماہ پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے نمبر چار پوزیشن کے لئے امباتی رائیڈو کی حمایت کی تھی تاہم رواں سال وجے شنکر کے ڈیبیو کے بعد بھارت کے پلان میں ”سہ جہتی“ تبدیلی آئی۔

امباتی رائیڈو جو دوسال کے وقفے کے بعد ستمبر 2018ء میں ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں واپس آئے تھے تب سے وہ بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔اس دوران انہوں نے چار نصف سنچریاں، ایک سنچری اور دو مرتبہ 40 سے زائد رنز بنائے۔ وجے شنکر کے اسکواڈ میں شامل ہونے کے باجود نمبر چار پوزیشن کا مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوسکا ہے۔

دنیش چندیمل (سری لنکا)
2010ء میں ڈیبیو کرنے والے چندیمل حالیہ دنوں میں بھی سری لنکا کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں۔ 2018 میں ان کے رنز بنانے کی اوسط 42اعشاریہ 57 رہی جبکہ وہ مختصر وقت کے لئے کپتان بھی رہے۔ میگا ایونٹ میں سری لنکا کی ٹیم 146 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی سے محروم رہے گی۔

جوفرا آرچر (انگلینڈ)
جوفرا آرچر نے انگلینڈ کی طرف سے ابھی تک کوئی ایک روزہ بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا ہے لیکن اسکواڈ کے لئے ان کا نام کچھ وقت کے لئے زیرگردش رہا۔ دنیا بھرمیں ٹی 20 لیگ میں سود مند رہنے والے بولر کو ان کی انتہائی درست یارکرز نے مہلک ہتھیار بنادیا ہے۔

24 سالہ بولرز کو ورلڈ کپ میں تو موقع نہیں مل سکا لیکن وہ پاکستان کے خلاف رواں ماہ ہونے والے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں اچھی پرفارمنس دے کر اب بھی سلیکٹرز کو متاثر کرسکتے ہیں۔

آصف علی اور کائرون پولاڈ

آصف علی (پاکستان)
جارحانہ بیٹسمین آصف علی اسکواڈ میں عدم شمولیت خاص طور پر غیرمتوقع تھی کیونکہ پاکستان ٹیم کو پاور ہٹرز کی کمی کا شدت سے سامنا ہے۔ آصف علی نے اب تک 11 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے ہیںجن میں ان کے رنز کی تعداد اتنی زیادہ نہیں لیکن شاندار ہٹر ہونے کی وجہ سے وہ ڈیتھ اوورز میں بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

آصف علی انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لئے پاکستانی اسکواڈ کا حصہ ہیں لہٰذا ان کے لئے ورلڈ کپ کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے ہیں۔

کائرون پولارڈ (ویسٹ انڈیز)
کائرون پولاڈ نے آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ 2016 میں کھیلا تھا لیکن انڈین پریمیر لیگ میں دھواں دار پرفارمنس کے بعد انہوں نے دوبارہ توجہ حاصل کرلی ہے۔ رائٹ ہینڈ بیٹسمین نے آئی پی ایل کے 10 میچوں میں 200 کے قریب رنز بنالئے تھے۔

پولارڈ وقت ضرورت اچھی بولنگ بھی کرسکتے ہیں جبکہ وہ عمدہ فیلڈر بھی ہیں۔ وہ ورلڈ کپ میں واپسی کے لئے پرامید بھی تھے تاہم سلیکٹرز نے آندرے رسل کو ترجیح دی جو ٹیم کے لئے پولارڈ جیسا ہی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پیٹر ہینڈزکومب (آسٹریلیا)
اسٹیو اسمتھ کی واپسی پیٹر ہینڈزکومب کے لئے بدشگون رہی اور انہیں اسکواڈ میں جگہ نہ مل سکی۔ 2019ء میں اب تک انہوں نے 13میچز کھیلے ہیں جن میں 43اعشاریہ 54 کی اوسط سے 479رنز بنائے ہیں جن میں تین نصف سنچریاں اور ایک سنچری شامل ہے۔

ہینڈزکومب کے ٹیم میں نہ ہونے سے آسٹریلیا کے پاس بیک اپ وکٹ کیپر کا آپشن بھی نہیں ہے۔

محمد عامر اور اکیلا ذننجایا

اکیلا دننجایا(سری لنکا)
سری لنکا کے اسکواڈ میں شامل نہ ہونے والے تمام کھلاڑیوں میں سب سے حیران کن نام اکیلا دننجایا کا ہے۔ وہ گزشتہ سال 15 اننگز میں 23 کی اوسط سے 28 کھلاڑیوں کو آو¿ٹ کرکے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر رہے۔

ایکشن میں تبدیلی کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ واپسی کے بعد وہ نسبتاً کم موثر رہے جس کی وجہ سے سلیکٹرز نے انہیں سری لنکا کے 15 رکنی اسکواڈ سے باہر رکھا۔

محمد عامر(پاکستان)
27 سالہ محمد عامر اپنے آخری 14 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں سے 9 میں کوئی وکٹ نہیں لے سکے تھے اور حالیہ دنوں میں فٹنس مسائل کی وجہ سے اسکواڈ میں شمولیت کے لئے ان کا کیس کمزور ہوگیا تھا۔ جبکہ رواں ماہ کے اوائل میں کپتان سرفراز احمد نے بھی عامر کی فارم کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آصف علی کی طرح وہ بھی انگلینڈ کے خلاف 17 رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں لہٰذا ورلڈ کپ کھیلنے کے امکانات ابھی مکمل طور معدوم نہیں ہوئے ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top