ہالینڈ کے اسلام مخالف سیاستدان مسلمان ہوگئے

Duch-MP-03.jpg

ہالینڈ کے اسلام مخالف سیاستدان گیرٹ وائلڈر کے اہم ساتھی اور سابق رکن اسمبلی جورم کلیرن نے اسلام قبول کرلیا۔

اسلام کے خلاف سخت گیر مؤقف رکھنے اور اس کا پرچار کرنے والے جورم کلیرن نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دین اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔

جورم کلیرن کا کہنا تھا کہ اسلام کا منفی چہرہ پیش کرنے اور اسلام کے بارے میں لوگوں کو غلط معلومات فراہم کرنے پر معافی مانگتا ہوں۔

40 سالہ کلیرن کا کہنا تھا کہ ان کی کتابوں کی الماری میں اسلام مخالف بہت سی کتابیں تھیں ۔ ان میں بائبل اور پیغمبر اسلام سے متعلق کتابیں بھی شامل ہیں جن کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کے خیالات اسلام سے متعلق غلط تھے۔

کلیرن نے کہا کہ انہوں نے ابتدا میں اسلام مخالف کتابیں لکھنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے بہت سا مواد لکھا اور چاہتا تھا کہ اسلام کے دلائل کا جواب دلائل سے دوں لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ دائیں بازوں کے ارکان اور دنیا کی جانب سے مسائل کا ذمہ دار اسلام کو قرار دینا غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اسلام قبول کرنے کو اہلیہ نے بھی تسلیم کرلیا ہے تاہم وہ اپنے دو بچوں اور بیوی کو دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کریں گے، اس کا فیصلہ وہ ان پر چھوڑتے ہیں۔

کلیرن نے کہا کہ وہ کسی پر مسیحیت کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے اور یہی وہ اسلام کے بارے میں بھی چاہتے ہیں۔

چالیس سالہ کلیرن دین اسلام میں داخل ہونے سے قبل جورم کلیرن فار رائٹ پارٹی فار فریڈم کے سرگرم رہنما تھے۔وہ 2010 سے 2017 تک رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top