پاکستان بھارت کشیدگی کے سزا وار غریب ماہی گیر کیوں؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی ماہی گیروں کی رہائی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کی گرفتاری کے بعد اُن کے اہلخانہ انتظار اور صبر کے تکلیف دہ دور سے گزرتے ہیں۔

پاکستان نے رواں ماہ جذبہ خیر سگالی کے تحت 360 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب تک 300 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارت کی جیلوں میں بھی اس وقت 157 پاکستانی ماہی گیر قید ہیں تاہم ان کی رہائی کے حوالے سے اب تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی ماہی گیروں کی رہائی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کی گرفتاری کے بعد اُن کے اہلخانہ انتظار اور صبر کے تکلیف دہ دور سے گزرتے ہیں۔

ماہی گیر کس اذیت سے گزرتے ہیں اور عالمی قوانین کیا کہتے ہیں اور ذیل میں ہم نے انھی اُمور کا جائزہ لیا ہے۔

ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ کا وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی کا اعلان نہ کرنا زیادتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 157 قیدیوں میں سے 98 ماہی گیروں کی شناخت کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں رہا نہ کرنا سراسر زیادتی اور ظلم ہے۔

محمد علی شاہ

پاکستان اور بھارت بحیرۃ عرب کی ساحلی پٹی پر ہیں اور دونوں ممالک کے ماہی گیر اکثر اوقات گہرے ہانیوں میں ایک دوسرے کی سمندری حدود میں غلطی سے داخل ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے صوبے سندھ اور بھارتی ریاست گجرات کے درمیان 100 نوٹیکل میل طویل آبی گزرگاہ سرکریک شروع ہی سے متنازع رہی ہے۔

معاشی لحاظ سے فائدے مند اور تیل و گیس کے ذخائر کی وجہ سے یہ پٹی دونوں ممالک کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس مسئلے پر 1969ء سے اب تک متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن سب بے نتیجہ رہے۔

پاکستان سے رہا ہونے والا ایک بھارتی ماہی گیر

‘سرکریک کا گہرا سمندر، ماہی گیروں کے لئے ’دلکش

یہ علاقہ جہاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع ہے وہیں ماہی گیروں کے لئے یہ اپنے اندر بہت کشش رکھتا ہے۔ سرکریک اور مینگرو کے کھلے سمندر میں مچھلی کی نرسریاں ہوتی ہیں۔

سرکریک میں بڑی کشتیاں اور ٹرالر نہیں چلتے یہاں چھوٹی کشتیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے جس کے سبب مچھلیوں کی افزائش اور موجودگی زیادہ اور شکاری کم ہیں۔

یہاں پائی جانے والی مچھلی کی کوالٹی بھی اعلیٰ ہوتی ہے اور غریب ماہی گیروں کے لئے زیادہ آمدنی کا سبب بنتی ہے اسی لئے بیشتر لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

تنازعے کی سزا ماہی گیروں کو کیوں ؟

دونوں ممالک کے لاتعداد ماہی گیر روزگار کی تلاش میں گہرے پانیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن لاعلمی میں غیر واضح اور نظر نہ آنے والی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر انھیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرکریک پر حد بندی کا کوئی نشان نہیں ہے کیوں کہ سمندر کے درمیان دیواریں کھڑی نہیں کی جاسکتیں۔

دونوں ممالک کے سمندر یہیں ملتے ہیں اس لئے ماہی گیر غیر ارادی طور پر اور لاعلمی میں بھی سمندری حدود عبور کرجاتے ہیں ۔ اکثر ماہی گیر رات کو پانی میں جال ڈال کر سو جاتے ہیں اور جب آنکھ کھلتی ہے تو پتہ لگتا ہے کہ ان کی کشتی بھارتی حدود میں پہنچ گئی ہے جہاں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ان کے بقول گرفتار ماہی گیروں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر شروع ہوتا ہے شناخت کا وہ صبر آزما طویل سلسلہ جس کے حل ہونے میں کبھی مہینوں تو کبھی سالوں لگ جاتے ہیں۔

سمندر میں گرفتار ہونے والے ماہی گیروں کے اہلخانہ بھی انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ اکثر اوقات اہلخانہ کو ماہی گیر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہے۔

محمد صابر

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں مقیم محمد صابر اور ان کی اہلیہ جہاں آرا بیگم بھی ایسے ہی والدین میں شامل ہیں۔ جن کا 18 سالہ بیٹا محمد رمضان تقریباً ڈیڑھ سال پہلے چشمہ گوٹھ سے سات افراد کے ساتھ مچھلی کے شکار کے لئے نکلا تھا۔ غیر واضح سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں بھارتی سیکورٹی اہل کاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔

محمد صابر کا کہنا ہے کہ رمضان ہمیں بتائے بغیر اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر نکلا تھا۔ ہمیں تو تین ماہ تک پتہ ہی نہیں چل سکا کہ وہ کہاں ہے پھر ایک دن پاکستان نیوی کی طرف سے فون آیا تو ہمیں پتہ چلا کہ رمضان بھارتی جیل میں قید ہے۔ نیوی والوں نے ہی ہمیں رمضان اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تصویر دی اسے اس حال میں دیکھ کر تو ہماری ہمت ہی جواب دے گئی۔

بھارت میں قید محمد رمضان اور اس کے ساتھی

انھوں نے کہا کہ ہم سب لوگ رمضان کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارا بچہ کس حال میں ہوگا رمضان کی ماں کا تو اب تک رو رو کر برا حال ہے۔

رمضان کی والدہ جہاں آرا بیگم ایک سال سے زیادہ مدت گزرجانے کے باوجود آج تک بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں وہ دونوں جانب کے حکام سے التجا کرتی ہیں کہ ان کے بیٹے کو جلد رہا کردیں۔

جہاں آرا بیگم

وائس آف امریکہ سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ مجھے اپنا بیٹا بہت یاد آتا ہے وہ میرا سب سے بڑا بیٹا ہے۔ طویل عرصے سے میں نے اپنے بیٹے کی آواز نہیں سنی وہ کس حال میں ہے مجھے کچھ نہیں پتہ۔

جہاں آرا کا کہنا تھا کہ محلے یا رشتے داروں میں سے کوئی رہا ہوکر آتا ہے تو مجھے رمضان کی یادیں اور بے چین کردیتی ہیں۔

محمد صابر خود بھی چار سال قبل بھارت کے علاقے جام نگر کی ایک جیل میں ڈھائی سال گزار کر آئے ہیں اس لئے انہیں بخوبی علم ہے کہ رمضان کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں چھ سات دن تک مجھ سے تفتیش ہوتی رہی۔ باپ دادا اور خاندان کے دیگر لوگوں کے بارے میں سخت اور دھمکانے والے لہجے میں تفتیش کی جاتی رہی۔

رمضان اور صابر کے علاوہ ابراہیم حیدری میں بہت سے ایسے لوگ آباد ہیں جنہیں معمولی غلطی کی بڑی سزا مل رہی ہے۔

انسانی حقوق پامال

ماہی گیروں کے غلطی یا لا علمی میں سمندری حدود کی خلاف ورزی سے متعلق اقوام متحدہ کا ایک قانون موجود ہے جسے ”یو این کنونشن آن لا آف دی سی“ کہا جاتا ہے۔ قانون کی دفعہ 73 کے تحت دنیا کا کوئی بھی ماہی گیر سمندری حدود عبور کرلیتا ہے تو نہ اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے سزا دی جا سکتی ہے۔

محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے اس قانون پر دستخط موجود ہیں لیکن دونوں ممالک کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی جاری ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرحدی خلاف ورزی کی سزا چھ ماہ سے ایک سال ہوتی ہے۔ اس دوران ماہی گیروں کی شہریت کنفرم کرنا ضروری ہے لیکن ایسے کیسز میں شناخت ہی سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

عرصے تک ماہی گیروں کی فہرست ہی نہیں بن پاتی طویل مدت کے بعد بن بھی جائے تو ایک دوسرے کے ملک پہنچنے اور ماہی گیروں کی شناخت کی تصدیق میں مہینوں یا سالوں لگ جاتے ہیں۔

جنگی قیدیوں جیسا سلوک

وی او اے کے ایک سوال پر محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گرفتار ماہی گیروں کے ساتھ جنگی قیدیوں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ قانون کے تحت جس شخص کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا اس پر تشدد کرنا اور ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مسئلے کا مستقل حل تجویز کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محمد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسی بنانی چاہیئے کہ ماہی گیروں کو گرفتاری کے بجائے خبردار کر دیا جائے۔ اگر گرفتار کر بھی لیا گیا ہے تو فوری طور پر اس کے گھر والوں سے رابطہ کروایا جائے۔

سن 2012ء میں پاکستان اور بھارت نے ماہی گیروں کی گرفتاری کی روک تھام کے لئے مذاکرات کئے تھے جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top