پاکستان میں پہلا ٹرانس جینڈر فلم فیسٹول جون میں ہوگا

Trans-Film-Festival-3.jpg

پاکستان میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کی زندگی،ان کے مسائل اورانہیں درپیش پریشانیوں پر بننے والی فلموں سے سجا ’ٹرانس جینڈر فلم فیسٹول‘ منعقد ہونے جارہا ہے۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’دی جینڈر گارجین ‘ کے ایک عہدیدار آصف شہزاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فیسٹیول کی تاریخ طے ہوگئی ہے ۔ فیسٹیول 16جون کو لاہور کے الحمراہال میں ہوگا۔

آصف شہزاد کے مطابق ان فلموں میں پاکستانی ہی نہیں بلکہ غیر ملکی فلمیں بھی شامل ہیں جن کی فیسٹیول کے دوران اسکرینز ہوگی۔فیسٹیول میں سات منٹ سے پندرہ منٹ تک کے دورانیے کی فلمیں دکھائی جائیں گی۔

آصف کے بقول ’سات منٹ دورانیے کی بہترین فلم کو 50ہزار اور 15 منٹ دورانیے کی بہترین فلم کو ایک لاکھ روپے انعام اورسرٹیفیکیٹ دیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے بھی فلم فیسٹیول میں اینٹریز کی غرض سے منگوانے کی کوششیں جاری ہیں کیوں کہ ابھی فیسٹیول میں وقت ہے لہذا اینٹریز مئی تک وصول کی جائیں گی۔‘

وی او اے سے گفتگو میں آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ٹرانس جینڈر یا خواجہ سرا کو معاشرے کا کمزور ترین طبقہ سمجھاجاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے ان میں بھی عام لوگوں کی طرح ٹیلنٹ بھرا پڑا ہے ۔ ۔۔بس یہ ٹیلنٹ ذرا چھپا ہوا ہے مگر شکر ہے گزشتہ کچھ سالوں سے ان کے حقوق اورمسائل پرکھل کربات ہونے لگی ہے ۔ پہلے اس کاپہلے نہ کوئی تصورتھا اورنہ ہی کوئی اہمیت۔‘

آصف شہزاد کے مطابق ’شناختی کارڈ بننا، ان کی شناخت تسلیم کرنا ، پاکستان میں ان کے لئے اسکول کھلنا اور ماڈلنگ و ٹی وی اینکرنگ سے لیکر سرکاری ملازمتوں کے ملنے تک بہت سے ایسے کام ہیں جو اس بات کی مثال ہیں کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں سے متعلق سوچ بدل رہی ہے ۔ ‘

وی او اے کے ایک سوال پر آصف شہزاد کا کہنا تھا ’فیسٹیول کا مقصد چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے ۔ ہم ایسے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہتے ہیں جہاں اور اپنا ٹیلنٹ یا اپنی صلاحیت کا اظہار کرسکیں ۔ ہم یونیورسٹی اور کالج لیول پرایسے اسٹوڈنٹس سے رابطہ کررہے ہیں جو فلم پروڈکشن سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی اس فیسٹیول سے خواجہ سراؤں کے مسائل سے بھی معاشرے کو آگاہی مل سکے گی۔ ‘

’فیسٹیول کے ذریعے ٹرانس جینڈرز کے موضوع پر فلم بنانے والوں کو خواجہ سراؤں سے رابطے کا موقع ملے گا دوسرے لوگ خواجہ سراؤں کی بات بھی اس ذریعے سے سن سکیں گے۔خواجہ سراؤں کا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ انہیں اپنے مسائل بیان کرنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم ہی میسر نہیں جبکہ فیسٹیول کا بھرپور موقع فراہم کرے گا۔ ‘

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top