فلم ‘مودی’ کی نمائش پر پابندی، ٹی وی چینل بھی گرفت میں

Modi-Paster.jpg

فلم کے دو پوسٹر

بھارتی وزیرِ اعظم کی زندگی پر بننے والی فلم ‘نریندر مودی’ کی نمائش پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے انتخابات کے اختتام تک پابندی لگادی ہے۔

کمیشن نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلانے والے چینل ‘نمو ٹی وی’ کے گرد بھی شکنجہ کس دیا ہے۔

وزیرِ اعظم کی بائیو پک جمعرات، 11 اپریل کو ریلیز ہونا تھی۔ اسی روز بھارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 20 مختلف ریاستوں میں ووٹنگ بھی ہونا تھی۔

لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق نہ صرف یہ کہ فلم انتخابات کے مراحل مکمل ہونے تک ریلیز نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کی ریلیز کی تاریخوں کا حتمی اعلان بھی انتخابات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

کمیشن کی جانب سے فلم پر پابندی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے دی گئی درخواست پر لگائی گئی ہے جس میں کانگریس نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ فلم کی ریلیز انتخابی مہم پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

کانگریس کی جانب سے فلم کی ریلیز کو الیکشن کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

کانگریس نے فلم کی نمائش رکوانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ایک نا مناسب معاملہ ہے جس پر عدالت کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فلم کی ریلیز کی تاریخ اور ٹائٹل کے انتخاب کو الیکشن کمیشن کا اختتار قرار دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے نریندر مودی کی انتخابی مہم چلانے والے چینل ‘نمو ٹی وی’ کے گرد بھی شکنجہ کس دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ چینل انتخابی مہم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

کمیشن کے مطابق ‘نمو ٹی وی’ کی اسپانسر وزیرِ اعظم کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہے لہذا چینل پر پیش کیے جانے والے کونٹینٹ کو نشر کرنے سے پہلے منظور کرانا ہوگا۔

بھارتی قوانین کے مطابق کسی بھی ایسے کونٹینٹ یا مواد کو نشر کرنے کے لیے جو انتخابی مہم پر اثر انداز ہوسکتا ہو، الیکشن کمیشن سے اجازت لینا لازمی ہے۔ اس کونٹینٹ میں اشتہارات، فلمیں اور سوشل میڈیا لنکس بھی شامل ہیں۔

‘نمو ٹی وی’ پر مسلسل 24 گھنٹے نریندر مودی کی انتخابی ریلیاں، تقاریر اور انتخابی گانے نشر کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ‘نمو ٹی وی’ نے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top