دیکھئے کیسا ہے کراچی کا باغ ابن قاسم؟

تحریر : وسیم صدیقی : کراچی کے ساحل کلفٹن پر بنا باغ ابن قاسم۔۔۔صرف ایک پارک ہی نہیں شہر کی 99سالہ تاریخ کا جھرونکہ ہے۔اگر پتھروں کو زبان مل سکتی تو یہ جھرونکہ اپنے اندر چھپے ڈھیروں راز اورشہر سے جڑے ہزاروں واقعات ضرور سناتا۔

عمارت کے بیرونی حصے پر ایک عبارت لکھی ہے ۔۔۔جہانگیر کوٹھاری پریڈ ۔۔۔جو یہاں آنے والے ہر فرد کو دور سے ہی دکھائی دے جاتی ہے۔ یہ قطعہ اراضی کراچی کے ایک ممتاز شہری جہانگیر ایچ کوٹھاری کی ملکیت تھا جنہوں نے اسے تفرحی گاہ بنانے کے لئے میونسپلٹی کو عمارت عطیہ کرنے کے ساتھ ساتھ تین لاکھ روپے بھی دیئے تھے ۔

عمارت پڑوسی ملک کی ریاست راجستھان کے ایک شہر جودھ پور سے لائے گئے پتھر سے تعمیر کی گئی تھی جسے جودھ پوری پتھرکہاجاتا تھا۔

پتھروں پر کندہ یہ عبارت گواہ ہے کہ اس کا سنگ بنیاد 10 فروری 1919کو بمبئی کے گورنر جارج لائیڈ نے رکھا تھا ۔

ایک سال کی مدت کے بعد سن 1920کو ان کی تعمیر مکمل ہوئی جس کی خوش میں یہاں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی ۔یہ تقریب لیڈ لائیڈ ممبئی کے گورنر جارج لائیڈ کی اہلیہ کے ہاتھوں انجام پائی۔

عمارت کے بیرونی حصے میں ہی قائم ایک اور عمارت ‘ہوا بندر’ کے نام سے منسوب ہے ۔ آج یہ عمارت ایک کو میں سمٹی نظر آتی ہے مگر کچھ سال پہلے تک اس کے اریب قریب میدان ہواکرتا تھا اور یہاں پکنک منانے کی غرض سے آنے والے لوگوں کی گاڑیاں کھڑی ہوا کرتی تھیں جبکہ آج یہ منظر بالکل ہی بدل گیا ہے۔

باغ ابن قاسم سندھ کے پہلے مسلم فاتح حکمراں محمد بن قاسم کے نام سے منسوب ہے ۔تاریخی حوالے گواہ ہیں کہ مختلف ادوار میں اسے مختلف لوگوں نے اسے ازسرے تعمیر کرایا یااس کی تراش خراش کی۔

حالیہ برسوں میں سندھ کے سابق گورنرڈاکٹر عشرت العباد نے اسے خوب صورت بنایا اور نئے سرے سے اسے سنوارا جبکہ اب 30مارچ 2019 کو موجودہ وزیراعظم عمران خان اور کراچی کے مئیر وسیم اختر نے اس کی تعمیر میں تیسر ی مرتبہاپنا کردار اداکیا-پارک کی موجودہ خوب صورتی انہی کی مرہون منت ہے۔

آج کا باغ ابن قاسم 130ایکڑ رقبے پرپھیلا ہوا ہے-اس کے اطراف کھڑی عمارتیں شہر کی ترقی اور نئے دور کا آئینہ ہیں۔ ان میں سے ایک عمارت بحریہ آئیکون ملک کی سب سے بلند عمارت ہے جس کی تقریباً100منزلیں ہیں۔

اس عمارت کے ساتھ ہی ایک صدی پرانا ‘رتنیشور مندر بھی ہے جو پاکستان میں آباد اقلیتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا نظر آتا ہے ۔ مندر کی چھت پربنا یہ وسیع تر’ کابک ‘، یا کبوتروں کے چھوٹے چھوٹے ڈربے مندر کی سالوں پرانی تاریخ سے ہم عصر ہیں۔

پارک میں درجنوں سر سبز درخت اور دور دور تک مخملی گھانس کا فرش بچھاہے۔درمیان میں پارک میں جگہ جگہ آنے والوں کو دھوپ سے بچانے کے لئے 3ہزار سے زائد سائبان بنے ہیں جو دھوپ اور بارش سے بچانے کے لئے چھتری کا کام دیتے ہیں۔

لاکھوں موسمی اورمختلف و دلکش رنگوں کے پھول اس فرش پر نگینوں کی بکھیرے نظر آتے ہیںجبکہ رات کو اس پار ک حسن دوبالا کرنے کے لئے 39لائٹ ٹاورز بنائے گئے ہیں جن میں سے ہر پول پر 18فلڈ لائٹں نصب ہیں۔

بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے تعمیر کیا گیا یہ پارک سمندر کی جانب سے کراچی کا گیٹ وے ہے۔ساحل کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے باغ ابن ِ قاسم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

Share this post

PinIt

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top